امریکی ٹیرف کے حوالے سے سام سنگ کا انتباہ جاری!
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کیے جانے والے ٹیرف کمپنی کی اشیاء (بشمول اسمارٹ فونز اور چپس) کی طلب متاثر کریں گے۔
جنوبی کوریا کی الیکٹرونک کمپنی نے اپنی آمدنی کی سہ ماہی رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ رواں برس 31 مارچ تک کمپنی کی آمدنی 41.6 ارب پاؤنڈز رہی اور آپریٹنگ منافع میں 1.
تاہم، کمپنی کے عہدیداران نے امریکا کی ٹیرف پالیسی کے حوالے سے موجود عدم استحکام کے متعلق خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا ہونے سے سال کے آخری حصے میں ممکنہ طور پر اشیاء کی طلب میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف کی وقتی طور پر مؤخر ہونے کے بعد گاہکوں نے اپنے آرڈر پہلے کر دیے ہیں۔ تاہم، سال کے دوسرے ششماہی اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
یہ ٹیرف ویتنام اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو بھی متاثر کریں گے جہاں پر سام سنگ اپنے اسمارٹ فونز، ڈسپلے اور دیگر اشیاء تیار کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔