بجلی مارکیٹ آپریٹر کا لائسنس نئی کمپنی کو منتقل
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی مارکیٹ آپریٹر کا لائسنس نئی کمپنی کو منتقل کردیا۔
نیپرا اعلامیے کے مطابق بجلی کی مارکیٹ کا لائسنس انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر پاکستان کو منتقل کر دیا ہے۔
حکومت نے حال ہی میں انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر آف پاکستان نئی کمپنی بنائی تھی، بجلی کے مارکیٹ آپریٹر کا یہ لائسنس پہلے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے پاس تھا۔
اعلامیے کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی سے مارکیٹ آپریٹر کا اختیار واپس لے لیا گیا، مارکیٹ آپریٹر لائسنس 30 اپریل 2025ء سے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کو منتقل کیا گیا ہے۔
نیپرا اعلامیے کے مطابق نئی کمپنی بجلی کے خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان نظام کو شفاف بنائے گی، جس کا مقصد بجلی کی منڈی کو آزاد، شفاف اور مسابقتی بنانا ہے۔
اعلامیے کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اب صرف حکومت کی جانب سے بجلی خریدنے کا کردار ادا کرے گی، حکومت نئی کمپنی کی مدد سے نجی شعبے کو بجلی خرید و فروخت کے کاروبار میں لائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مارکیٹ ا پریٹر کا اعلامیے کے مطابق کو منتقل
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔