رواں مالی سال کے 10 ماہ، ٹیکس وصولیوں میں 837 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے رواں سال کے 10 ماہ میں کی گئی ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے 10 ماہ میں ٹیکس وصولیوں میں 837 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال کے 10 ماہ میں 9 ہزار 304 ارب روپے اکٹھے کیے۔
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیے پر غور کررہے ہیں۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق اپریل میں 844 ارب روپے اکٹھے کیے گئے جبکہ ہدف 983 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا تھا۔
ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا کہ جولائی سے اپریل تک انکم ٹیکس کی مد میں 4 ہزار 490 ارب روپے اکٹھے ہوئے اور سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً 3 ہزار 200 ارب روپے حاصل ہوئے جبکہ ہدف 3.
ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق جولائی سے اپریل کے دوران فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 605 ارب روپے حاصل کیے گئے جو کہ ہدف سے 154 ارب روپے کم رہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.09 کھرب روپے حاصل کیے گئے تھے جو کہ مقررہ ہدف سے 230 ارب روپے کم رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سال کے 10 ماہ ایف بی آر کی مد میں ارب روپے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔