190 ملین پاؤنڈ کیس: سزا کیخلاف بانی کی اپیل اس سال لگنے کا امکان نہیں، رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائی کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
رجسٹرار آفس نے 190 ملین پاؤنڈ کیس سے متعلق تحریری رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دی۔
تحریری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل اس سال مقرر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق زیرِ التوا کیسز اور اپیلوں کو نمٹایا جائے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست آئندہ ہفتے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔
رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ اس وقت سزا یافتہ مجرموں کی 279 اپیلیں زیرِ التوا ہیں، اپیلیں دائر ہونے کے بعد اپنی اپنی باری پر مقرر ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی 14 سال قید کی سزا کے خلاف اپیل 31 جنوری 2025ء کو دائر کی گئی تھی جو ابھی موشن اسٹیج پر ہے۔
تحریری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپیل پر پہلے پیپر بکس تیار ہوں گی، اس کے بعد اپیل اپنے نمبر پر لگائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملین پاؤنڈ کیس کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔