ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل 2025 میں مقرر ہونے کا کوئی امکان نہیں، رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل 2025 میں مقرر ہونے کا کوئی امکان نہیں، رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 1 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف اپیل اس سال اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقرر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف اپیلیں صرف اپنے نمبر پر ہی سماعت کے لیے مقرر ہوں گی۔
رجسٹرار آفس نے بانی پی ٹی آئی کی اپیل مقرر کرنے سے متعلق تحریری رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف اپیل اس سال مقرر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق فکسیشن پالیسی مرتب کی گئی، فکسیشن پالیسی کے مطابق زیر التوا کیسز اور اپیلوں کو نمٹایا جائے گا۔
رجسٹرار آفس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس وقت سزا یافتہ مجرموں کی 279 اپیلیں زیر التوا ہیں، سزائے موت کیخلاف 63 اور عمر قید کی سزا کے خلاف 73 اپیلیں زیر التوا ہیں، سات سال سے زائد قید کی 88 جبکہ سات سال سے کم قید کی 55 اپیلیں زیر التوا ہیں، سزائے موت کے خلاف سب سے پرانی زیر التوا اپیل 2017 کی ہے، اپیلیں دائر ہونے کے بعد اپنی اپنی باری پر مقرر ہوتی ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 14 سال قید کی سزا کے خلاف اپیل 31 جنوری 2025 کو دائر ہوئی، بانی پی ٹی آئی کی اپیل ابھی موشن اسٹیج پر ہے، اس اپیل پر پہلے پیپر بکس تیار ہوں گا اس کے بعد اپنے نمبر پر لگے گا۔
رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی ڈائریکشنز کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل 2025 میں مقرر ہونے کا امکان نہیں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپہلگام فالس فلیگ آپریشن ،’’را‘‘کے خفیہ دستاویز ،،منصوبے سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات، تفصیلات سب نیوز پر پہلگام فالس فلیگ آپریشن ،’’را‘‘کے خفیہ دستاویز ،،منصوبے سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات، تفصیلات سب نیوز پر انصاف تو اللہ کا کام ہے جج تو صرف دستاویز کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل بھارتی افواج کو کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل آزادی مل گئی، ٹائمز ناؤ کا انکشاف بھارتی میڈیا کا پاکستان کے خلاف آپریشن بدلہ شروع ہونے کا دعویٰ امریکا نے بھارت کیساتھ 13 کروڑ ڈالر کا دفاعی معاہدہ کر لیا امریکی وزیر خارجہ کا وزیراعظم پاکستان، بھارتی ہم منصب کو فون، کشیدگی میں کمی پر زورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مقرر ہونے کا کوئی امکان نہیں اسلام ا باد ہائیکورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ میں مقرر ہونے کا سزا کے خلاف اپیل ملین پاو نڈ کیس بانی پی ٹی ا ئی عمران خان کی زیر التوا سب نیوز کی سزا قید کی
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔