سندھ، کپاس کی چنائی شروع، روئی کے ایڈوانس سودوں کا بھی آغاز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے ساحلی شہروں میں انتہائی محدود پیمانے پرکپاس کی نئی فصل کی چنائی شروع ہونے سے روئی کے ایڈوانس سودوں کا بھی آغاز ہوگیا اور ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں نیا کاٹن جیننگ سیزن مئی کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ پاکستان میں کپاس کی نئی فصل سے پہلے مرحلے میں تیار ہونیوالی روئی کے ایڈوانس سودے شروع ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: روئی کی امپورٹ سے کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی کا خدشہ
ابتدائی طور پر10 تا 15مئی ڈلیوری کی بنیاد پر پنجاب کے شہروں بورے والا اور منڈی جہانیاں کی 2 جننگ فیکٹریوں نے روئی کی 600 گانٹھوں کے ایڈاونس فروخت کے سودے17ہزار روپے سے 17 ہزار 300 روپے فی من کے حساب سے ہوئے ہیں۔
جبکہ ان فیکٹریوں نے کپاس سندھ کے ساحلی علاقوں سے 8 ہزار 300 روپے سے 8 ہزار 500 روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے خریدی ہیں، انھوں نے بتایا کہ سندھ کے بعض ساحلی علاقوں میں انتہائی کم مقدار میں کپاس کی چنائی کا آغاز ہوا ہے جنھیں پنجاب کے کاٹن جنرز خرید رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کپاس کی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔