بلوچستان اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز بل تبدیل کرکے پیش کیا گیا، زابد ریکی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
رکن اسمبلی زابد ریکی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ قائمہ کمیٹی کا منظور کردہ بل بعد میں تبدیل کر دیا گیا اور وفاقی حکومت کے اختیارات دوبارہ شامل کر دیئے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے رکن اسمبلی زابد ریکی کا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونے والے مائنز اینڈ منرلز بل میں تبدیلی کی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ بل پر اتفاق نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز بل 28 فروری کو ایوان میں پیش کیا گیا۔ جس پر وزیراعلیٰ ہاؤس اور بعد ازاں قائمہ کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی۔ کمیٹی نے بل پر مشاورت کے لئے مائنز اونرز کو بھی مدعو کیا تھا اور اس مشاورت کے بعد بل سے وفاق کے اختیارات نکال دیئے گئے تھے۔ زابد ریکی نے بتایا کہ 12 مارچ کو 120 صفحات پر مشتمل بل منظور کیا گیا، لیکن جو مسودہ قائمہ کمیٹی میں فائنل کیا گیا تھا، وہ منظور شدہ ڈرافٹ میں شامل نہیں تھا۔ جے یو آئی رہنماء نے الزام عائد کیا کہ قائمہ کمیٹی کا منظور کردہ بل بعد میں تبدیل کر دیا گیا اور وفاقی حکومت کے اختیارات دوبارہ شامل کر دیئے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی زابد ریکی کیا گیا
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔