نوشکی میں تیل سے بھرے ٹرک میں آتشزدگی کا واقعہ، جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
نوشکی میں تیل سے بھرے ٹرک میں آتشزدگی سے زخمی ہونے والے مزید 6 افراد دم توڑ گئے ہیں، جس سے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی ہے جبکہ 60 زخمی اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوشکی: تیل سے بھرے ٹرک میں آگ لگنے سے دھماکا، متعدد افراد جھلس گئے
ضلعی انتظامیہ نوشکی کے مطابق گزشتہ 2دنوں کے دوران نوشکی میں تیل سے بھرے ٹرک میں آتشزدگی سے زخمی ہونے والے کراچی میں زیر علاج افراد میں سے مزید 6 افراد دم توڑ گئے ہیں، جس سے جاں بحق افراد کی تعداد7 ہوگئی ہے۔
More than 30 people were injured in #Nushki #Balochistan
نوشکی: بس اڈے کے قریب تیل بردار ٹرک میں لگی آگ بجھانے کے دوران دھماکہ، https://t.
— ???????? (@Info_Balochistn) April 28, 2025
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوئٹہ اور کراچی کے اسپتالوں میں نوشکی واقع میں جھلسنے والے 60 سے زائد افراد زیرعلاج ہیں، زخمیوں میں 15 کی حالت اس وقت بھی انتہائی تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوشکی سانحہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سول اسپتال کوئٹہ کا ہنگامی دورہ
یاد رہے کہ 4 دن قبل (28 اپریل) نوشکی ٹرک اڈے میں تیل سے بھرے ٹرک میں آگ لگنے سے دھماکا ہوا تھا، دھماکے میں 70 افراد زخمی ہوئے تھے، 20شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کیا گیا تھا جبکہ دیگر زخمی کوئٹہ میں زیرعلاج ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news تیل ٹرک زخمی کراچی کوئٹہ نوشکی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیل کراچی کوئٹہ نوشکی میں تیل سے بھرے ٹرک میں تیل سے بھرے ٹرک میں ا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔