بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہے ،پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے پاکستان کی 24 کروڑ آبادی متاثر ہوگی ، جنوبی ایشیا میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا

پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ کسی بھی بلاواسطہ یا پراکسیز کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا، پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ دہشت گردی، جبر یا جارحیت سے نہیں روکا جاسکتا، آرمی چیف کا خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کے لیے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔فورم نے اعادہ کیا کہ پاکستان کے عوام کی امنگوں کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا، بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر عدم استحکام کی کوششوں کو قومی عزم اور واضح اقدامات سے شکست دی جائے گی۔شرکاء کانفرنس نے کہا کہ بھارت کو ان مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی دہشت گرد پراکسیز فعال کرنے میں ناکامی اٹھانی پڑے گی، پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ کسی بھی بلاواسطہ یا پراکسیز کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا، پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ دہشت گردی، جبر یا جارحیت سے نہیں روکا جاسکتا۔بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہے ،پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے پاکستان کی 24 کروڑ آبادی متاثر ہوگی اور جنوبی ایشیا میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔شرکاء کانفرنس کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی غیر انسانی اور بلا اشتعال کارروائیاں علاقائی کشیدگی کو بڑھاتی ہیں، بھارتی بلا اشتعال کارروائیوں کا مؤثر اور مناسب جواب دیا جائے گا، انتظامی ناکامیاں چھپانے کیلئے بھارت اندرونی مسائل کو بیرونی رنگ دیتا رہا ہے ، پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی افواج ایل او سی پر معصوم شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے خطے کی موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ لیا اور بالخصوص پاک بھارت کشیدگی اور علاقائی سلامتی پر غور کیا۔فورم نے کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کے خلاف ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مسلح افواج کی غیر متزلزل پیشہ وارانہ مہارت، ثابت قدم حوصلے اور آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے تمام محاذوں پر چوکنا رہنے اور فعال تیاریوں کی اہمیت پر زور دیا۔فورم نے بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور سیاسی اور فوجی مقاصد کے لیے گھڑے جانے والے خود ساختہ بحرانوں پر اظہار تشویش کیا۔شرکاء کانفرنس نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے بھارت یکطرفہ چالوں سے اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، 2019میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اسٹیٹس کو یکطرفہ تبدیل کرنے کی کوشش کے لیے پلوامہ ڈرامہ رچایا۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ذریعے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا، پہلگام واقعہ کا مقصد پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں، اقتصادی بحالی کی جاری کوششوں سے ہٹانا ہے ، ان دو عوامل میں پاکستان فیصلہ کن اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ