115 سالہ برطانوی خاتون کو دنیا کے معمر ترین انسان کا اعزاز کیسے ملے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
گینز ورلڈ ریکارڈ نے تصدیق کی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ شخص اب برطانیہ میں رہنے والی ایک خاتون ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی خاتون نے سب سے بڑی بائٹ کا ورلڈ ریکارڈ کیسے بنایا؟
115 سالہ برطانوی خاتون ایتھل کیٹرہم عالمی اعزاز پانے سے قبل بحیثیت برطانیہ کی بزرگ ترین شخصیت کے طور پر میڈیا میں جگہ پا چکی تھیں۔
ایتھل کیٹرہم کو جب یہ اطلاع دی گئی کہ اب وہ دنیا کی سب سے عمر رسیدہ انسان کا اعزاز پا چکی ہیں، تب تک وہ اپنی زندگی کے 115 سال اور 252 دن گزار چکی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی نوجوان نے’فل بک‘ کی تیاری سے ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا
انہیں یہ اعزاز 116 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والی برازیلین راہبہ لوکاس کے انتقال کے بعد حاصل ہوا ہے، جب کہ خود برازیلین راہبہ کو یہ ٹائٹل گزشتہ سال دسمبر میں جاپانی بیوہ ٹومیکو ایٹوکا کی موت کے بعد حاصل ہوا تھا۔
ریکارڈ کیپنگ ریفرنس کی اشاعت کے مطابق برطانوی خاتون کیٹرہم گزشتہ 12 برس میں 115 سال کی عمر کے ساتھ یہ عالمی اعزاز حاصل کرنے والی سب کم عمر شخصیت ہیں۔
کیٹرہم 21 اگست 1909 کو شپٹن بیلنگر، ہیمپشائر میں پیدا ہوئیں۔ وہ برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ VII کے دور حکومت (1901 سے 1910) میں رہنے والی آخری برطانوی آخری شخصیت ہیں۔
اس کے علاوہ کیٹرہم 1913 سے پہلے پیدا ہونے والی واحد باقی ماندہ برطانوی فرد بھی ہیں جو آج زندہ ہیں اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1909 میں پیدا ہونے والی دنیا کی واحد زندہ شخصیت ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پاکستان سے بھارت جانے والی خاتون سیما حیدر کے پاکستانی شوہر نے حکومت سے اپیل کر دی
نئی دہلی (ویب ڈیسک) پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھارت میں موجود پاکستانی خاتون سیما حیدر کے شوہر غلام حیدر کا ایک اور جذباتی ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے۔
بیان میں انہوں نے حکومت پاکستان، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے اپنے بچوں کی حفاظت اور فوری واپسی کے لیے اپیل کی ہے۔غلام حیدر نے بتایا کہ انہوں نے بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں موجود عملے کو ان کے بچوں کی واپسی سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔
غلام حیدر نے کہا میرے چار بچے غیر قانونی طور پر بھارت میں موجود ہیں۔ ان کی زندگی، تحفظ اور مستقبل خطرے میں ہے۔ میں ایک باپ ہوں میری مدد کریں۔
انہوں نے پاکستان کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے حق میں آواز بلند کریں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے بچوں کی بازیابی کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
مزیدپڑھیں:پاس ورڈ کا عالمی دن: کیسپرسکی نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے بنائے گئے پاسورڈ ز کے حوالے سے خبردار کر دیا