آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی قیادت بلائی جائے، شبلی فراز
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے کہا ہے کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی قیادت کو بلائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: وزیر اطلاعات اور فوجی ترجمان آج سیاسی رہنماؤں کو اہم بریفنگ دیں گے
انہوں نے بھارت کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو بریفنگ پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں کی کانفرنس ہونی چاہیے جہاں پارٹی سربراہوں کو معاملے پر بریف کیا جائے۔
شبلی فراز نے کہا کہ اتنے بڑے مسئلے کو اتنے چھوٹے لیول پر لانا اس کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی جھوٹ کا جواب: قومی و انٹرنیشنل میڈیا کو آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں کا دورہ کروادیا گیا
ان کا کہنا تھا کہ یہ عطا تارڑ کے لیول کی بات نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ معاملہ اتنا سنجیدہ ہے تو پھر سب اعلیٰ سطح پر کرنا ہوگا۔
شبلی فراز نے مزید کہا کہ بہتر ہوگا سب سے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد اس بریفنگ کا حصہ ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل پارٹیز کانفرنس پاک بھارت کشیدگی شبلی فراز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ل پارٹیز کانفرنس پاک بھارت کشیدگی شبلی فراز شبلی فراز
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :