Express News:
2026-07-24@06:26:28 GMT

بھارت کا غیرحقیقی مؤقف

اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT

پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیرکی زیرصدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس میں خطے کی موجودہ صورت حال کا جامع جائزہ لیاگیا بالخصوص پاک بھارت کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر غور کیاگیا۔

کانفرنس نے پاکستان کی مسلح افواج کے کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کے خلاف ملک کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کو برقرار رکھنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ آرمی چیف نے ملک کے دفاع کے لیے آپریشنل تیاریوں اور مورال پر تمام فارمیشنز اور اسٹرٹیجک فورسز پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کے لیے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں ۔

انھوں نے تمام محاذوں پر چوکنا رہنے اور فعال تیاریوں کی اہمیت پر زور دیا۔ کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی افواج لائن آف کنٹرول کے معصوم شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی فضا مسلسل برقرار ہے۔ اس تناظر میں کورکمانڈر کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ بھارت جس طرح پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا وار چلا رہا ہے، اس سے بھارتی عزائم واضح ہیں۔ کنٹرول لائن پر بھی بھارتی اشتعال انگیزی کی وجہ یہی ہے کہ بھارتی حکومت جارحیت کا جواز تلاش کر رہی ہے۔

کور کمانڈر کانفرنس کا یہ کہنا کہ ان کارروائیوں کا موثر اور مناسب جواب دیا جائے گا، بروقت اور مناسب اقدام ہے۔ کانفرنس کے شرکا نے بھارت کی جانب سے سیاسی اور فوجی مقاصد کے حصول کے لیے مستقل طور پر گھڑے جانے والے خود ساختہ بحرانوں پر تشویش کا اظہار کیا اورکہاکہ بھارت اپنی انتظامی ناکامی کو چھپانے کے لیے اندرونی مسائل کو ہمیشہ سے بیرونی رنگ دیتا رہا ہے۔

وہ یکطرفہ چالوں سے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے دوہزار انیس میں پلوامہ ڈرامہ رچا کرمقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے ذریعے اسٹیٹس کوکو یکطرفہ طور پر تبدیل کیا۔ پہلگام واقعہ کا مقصد پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں اور اقتصادی بحالی کے لیے جاری کوششوں سے ہٹانا ہے کیونکہ ان دو عوامل میں پاکستان فیصلہ کن اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بھارت کو ان مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی دہشت گرد پراکسیوں کو فعال کرنے میں ناکامی ہو گی۔

پہلگام میں جو کچھ ہوا ہے، غور کرنے والا پہلو یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں وہ کون سی قوتیں ہیں جن کو فائدہ پہنچا رہے یا پہنچ رہا ہے۔ کور کمانڈر کانفرنس میں واضح طور پر کہا ہے کہ پہلگام واقعے کا مقصد پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں اور اقتصادی بحالی کے لیے جاری کوششوں سے ہٹانا ہے۔

یہ انتہائی قابل غور پہلو ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز شمال اور مغرب میں دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر بھارت کشمیر اور مشرقی سرحد میں سرحدوں کو گرم کرتا ہے تو پاکستان کو اپنے مغربی باڈرز سے توجہ ہٹا کر ساری توجہ مشرقی سرحد کی جانب مبذول کرنی پڑے گی۔

جنوبی ایشیا میں موجود نان اسٹیٹ ایکٹرز، دہشت گردوں کے سرپرست، ہینڈلرز اور فنانسرز کے ساتھ ساتھ بلیک منی مافیا اور جرائم پیشہ گینگز بھی یہی چاہتے ہیں۔ یہ گروہ آرگنائزڈ اور مضبوط ریاستوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ آرگنائزڈ اور مضبوط ریاستوں کے سسٹمز میں داخل ہو کر انھیں کمزور کیا جائے اور دہشت گرد گروہوں کو استعمال کر کے ان کے درمیان جنگ کرائی جائے تاکہ ان کے غیرقانونی کاروبار اور دھندے چلتے رہیں۔

پاکستان اور بھارت کی قیادت کو ان پہلوؤں پر لازمی غور کرنا چاہیے۔ بھارت پہلگام واقعہ کی آڑ میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا فاش غلطی ہے۔ بھارتی پالیسی سازوں اور دیگر تھنک ٹینکس اگر یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر بھارت زیادہ ترقی کر لے گا یا بھارت میں امن ہو جائے گا تو یہ ان کی خام خیالی ہے اور ان کا تجزیہ غلط شواہد پر مبنی ہے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف لڑائی لڑ رہی ہیں۔ درحقیقت یہ جنگ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کے تحفظ کی جنگ ہے۔ جنوبی ایشیا کے کسی اور ملک نے دہشت گردوں کے خلاف اتنی طویل جنگ نہیں لڑی ہے، پاکستان آج بھی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والا واحد فرنٹ لائن کنٹری ہے۔

اس لیے پاکستان کو کمزور کرنے کا مطلب دہشت گردوں کی حمایت کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس سے صرف پاکستان ہی متاثر نہیں ہو گا بلکہ پورا جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ کور کمانڈر کانفرنس کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں براہ راست بھارتی فوج اور انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد پر بھی گہری تشویش کا اظہارکیا گیا ہے اورکہاکہ ریاستی سرپرستی میں ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور ناقابلِ قبول ہیں۔

امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کانفرنس نے واضح کیا کہ جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ پاکستان کے عوام کی امنگوں کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا۔ شرکا کانفرنس نے کہاکہ پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ کسی بھی بلاواسطہ یا پراکسیز کے ذریعے پھیلائی جانے والی دہشت گردی، جبر یا جارحیت سے نہیں روکا جاسکتا۔ بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر عدم استحکام کی کوششوں کو قومی عزم اور واضح اقدامات سے شکست دی جائے گی۔

پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں عالمی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روزامریکی ٹی وی فاکس نیوزکو انٹرویو کے دوران پہلگام واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان اس معاملے پر تحقیقات میں تعاون کو تیار ہے، امید ہے کہ بھارت بھی اس واقعے پر ایسا ردعمل نہیں دے گا جو پورے خطے کو کشیدگی کی لپیٹ میں لے آئے۔

انھوں نے مزید کہا واشنگٹن چاہتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن قائم رہے،پہلگام واقعے کا جواب احتیاط اور دانشمندی سے دیا جائے۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دہشت گرد جو کبھی کبھار سرحد پار سے کارروائی کرتے ہیں ان سے مل کر نمٹا جائے گا۔ امریکی نائب صدر نے بھارت کو جو کچھ کہا ہے، بھارت کی قیادت کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

دہشت گرد کسی کے دوست نہیں ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہے اور نہ ہی وہ کسی سرحد کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس لیے بھارتی قیادت کو بلاوجہ کی مہم جوئی سے ہر صورت گریز کرنا چاہیے۔ ادھر پاکستانی قیادت مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف سے جمعہ کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے سفیروں نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی حالیہ صورتحال، خاص طور پر پہلگام واقعے کے بعد کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے واضح طور پر بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے ،بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کی توجہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے ہٹائی جائے، انھوں نے برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھارت پردباؤڈالیں۔

سعودی، اماراتی اور کویتی سفیروں نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں امن و سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جمعہ کو ڈنمارک، پاناماکے وزرائے خارجہ اوریورپی یونین کی نمایندہ خارجہ امور سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

انھوں نے بھارت کے اشتعال انگیز بیانیے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔وزیر خارجہ نے پہلگام واقعہ کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے پاکستان کی تجویز کو دہرایا۔ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھ کراس کی فوری توجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کی طرف مبذول کرائی ہے جس سے عالمی امن اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔

سلامتی کونسل کے صدرجیروم بونافونٹ کو لکھے گئے دوصفحات پر مشتمل اپنے خط میں اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ چند دنوں سے یکطرفہ ،سیاسی مقاصد پرمبنی کچھ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو عالمی قانون،طے شدہ سفارتی اقدار اور دوطرفہ معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی خاصی بہتر جا رہی ہے۔ بھارت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بھارتی قیادت کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ جذباتی ہونے کے بجائے ریشنلزم کا مظاہرہ کرے۔ زیادہ بہتر یہی ہے کہ دونوں ملک مل کر دہشت گردی اور ان کے سرپرستوں کے عزائم ناکام بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے خلاف پہلگام واقعے جنوبی ایشیا پاکستان کی کہ پاکستان پاکستان کے پاکستان ا کرتے ہوئے کہ بھارت انھوں نے بھارت کے بھارت کی کی جانب کی کوشش جائے گا کہا کہ نے کہا رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا