کراچی، ملیر کالا بورڈ کے علاقے میں دھماکا، علاقے میں خوف و ہراس
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
کراچی:
ابتدائی تفتیش کے دوران دھماکا کریکر حملہ بتایا جا رہا ہے جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے ، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
شہر قائد کے علاقے ملیر کالا بورڈ چھیپا بوتھ کے عقب سے گزرنے والی ریلوے لائن کے قریب دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کو سیل کر کے دھماکے کی نوعیت کا پتہ چلانے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا۔
چھیپا بوتھ کے عقب میں رینجرز کی خالی چوکی بھی قائم ہے اور ابتدائی تفتیش کے دوران دھماکا کریکر حملہ بتایا جا رہا ہے جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی؛ گھر میں گیس لیکیج سے دھماکا؛ ملازمہ جاں بحق اور دو زخمی
دھماکے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، دھماکے سے قریب ہی کھڑی ہوئی چھیپا کی ایمبولینس کی چھت اور موٹر سائیکل کی ٹنکی پر دھماکے کے بعد نشانات پائے گئے۔
جبکہ اس بات کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں دھماکا ریلوے لائن کو نقصان پہنچانے کی کوشش تو نہیں تھی جبکہ ڈی آئی جی ایسٹ زون عثمان غنی کی جانب سے دھماکے کو کریکر حملہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ رات گئے تک بی ڈی ایس کا عملہ دھماکے سے متعلق شواہد حاصل کرنے میں مصروف تھے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جا رہا ہے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔