22 اپریل کے بعد مودی حکومت کے اقدامات، ناقابل فراموش المیے کو جنم دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پہلگام میں ہونیوالی دہشتگردی میں ہلاک ہونیوالے 26 لوگوں کی ہلاکت کے بعد اُٹھائے گئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اقدامات نے کئی خاندانوں کے افراد کے لیے ناقابل فراموش المیوں کو جنم دیا ہے۔
پہلگام میں ہونیوالی دہشتگردی میں ہلاک ہونیوالے 26 لوگوں کی ہلاکت نے جہاں ان کے خاندانوں اور گھرانوں کے افراد کیلئے ناقابل فراموش المیوں کو جنم دیا وہیں اس تناظر میں مودی حکومت کے بہت سے اقدامات نے بے گناہ اور معصوم لوگوں جن کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ان کی زندگی کو بھی سماجی المیوں میں بدل دیا ہے ان میں مودی حکومت کی جانب سے بھارت میں مقیم پاکستانیوں کو واپس بھیجے جانے کے احکامات بھی شامل ہیں۔
نوبیاہتا جوڑے اور ماں کو بچوں سے دور کر دیا، 25 دن کی دلہن کی پہلے میکے پھر سسرال سے رخصتی کے جذباتی مناظر ، مینیل خان کی شادی کو بمشکل ایک ماہ ہی ہوا تھا، ماں باپ کے بعد ساس سسر اور شوہر کو آنسوئوں کے ساتھ الوداع کہا، یہاں تک کہ سارک ویزے کے تحت آنیوالوں کو بھی واپس جانے کے لیے یکم مئی تک کی ڈیڈ لائن دیدی گئی تھی یعنی بھارت اور جموں وکشمیر میں قیام پذیر پا کستانیوں کو ویزوں کی مدت موجود ہونے کے باوجود انہیں بیدخل کرنے کے لیے محض 8 دنوں کی مہلت دی گئی تھی۔
اپنے رشتے داروں عزیز واقارب اور دوست احباب سے ملنے کیلئے بھارت اور جموں میں مقیم پاکستانیوں نے جن مشکلات اور مصائب کے عالم میں ہنگامی طور پر نقل مکانی کی وہ بھی دکھی داستانوں سے کم نہیں رواں ہفتے بچوں کے علاج کے لیے بھارت جانیوالی کراچی کی ایک فیملی کو مایوسی کے عالم میں واپس آنا پڑا۔
ان بچوں کےوالدین کے مطابق کشیدگی کے حالات کے باعث ڈاکٹرز نے علاج کرنے سے معذرت کرلی تھی جبکہ ایک اور فیملی جو اپنے بچوں کے ہمراہ علاج کروانے بھارت گئی تھی ماں کے پاس چونکہ بھارتی پاسپورٹ تھا اس لیے انہیں تو بھارت میں قیام کی اجازت مل گئی لیکن بچوں کو واپس بھیج دیا گیا جنہوں نے واپس آکر بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ہماری والدہ کو جلدی واپس بھیج دیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔