اکبر ایس بابر کا بیرسٹر گوہر کی آسٹریلیا کے ہائی کمشنر سے ملاقات پر خط، غلطی تسلیم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا غیرقانونی چیئرمین قرار دیتے ہوئے پاکستان میں تعینات آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان سے ملاقات کی غلطی تسلیم کریں اور ہائی کمیشن کو مناسب وضاحت دینی چاہیے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام کریں۔
پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان سے ملاقات پر پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کو خط لکھ کر انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ فیصلے کے مطابق بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے چیئرمین نہیں ہیں۔
اکبر ایس بابر نے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کا احترام کریں۔
ہفتے کو لکھے گئے اپنے خط میں پی ٹی آئی کے بانی رہنما نے تحریر کیا کہ آپ کی 31 جولائی 2025 کو ایک ایسے فرد سے ملاقات پر اپنی تشویش ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں جو خود کو پاکستان تحریک انصاف کا چیئرمین قرار دیتا ہے۔
اکبر بابر نے آسٹریلوی ہائی کمیشن کی جانب سے ملاقات کے حوالے سے جاری پریس ریلیز کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ آسٹریلیا اپنے آئین کے مطابق جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ اتفاق کریں گے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان ہی حتمی اختیار رکھتا ہے اور اس سلسلے میں آپ کی توجہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 13 جنوری 2024 کی طرف دلانا چاہوں گا۔
مزید پڑھیں: آسٹریلوی ہائی کمشنر سے چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات، قیادت کو سزائیں سنانے کے عمل پر تبادلہ خیال
فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں صفحہ 14 پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ گوہر خان نے خود کو تحریک انصاف کا چیئرمین نامزد کیا لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس عہدے پر کیسے فائز ہوئے۔
اکبر بابر نے خط میں مزید لکھا کہ اسی عدالتی فیصلے کے صفحہ 16 کے پیراگراف 30 میں کہا گیا ہے کہ گوہر علی خان نے خود کو چیئرمین پی ٹی آئی قرار دیا لیکن ان کے دعوے کی تائید میں کوئی قابل اعتبار ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
انہوں نے لکھا کہ یہ فیصلہ تاحال قانونی حیثیت رکھتا ہے۔
اکبر بابر نے لکھا کہ یقیناً پاکستان کے آئین کے مطابق جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا تقاضا ہے کہ آسٹریلوی حکومت سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا احترام کرے، جس نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ مسٹر گوہر علی خان کا چیئرمین تحریک انصاف ہونے کا دعویٰ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
پی ٹی آئی کے بانی رکن نے لکھا کہ اس خط کے ذریعے میں آسٹریلیا کے معزز ہائی کمشنر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ جمہوری اصولوں کو نہ صرف الفاظ بلکہ روح کے ساتھ اپنائیں اور ایک ایسے شخص سے ملاقات کرنے کی غلطی تسلیم کریں جو ایک سیاسی جماعت کا چیئرمین ہونے کا غیرقانونی دعویٰ کرتا ہے۔
اکبر ایس بابر نے مطالبہ بھی کیا کہ اس حوالے سے آسٹریلوی ہائی کمیشن کو مناسب وضاحت کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ آف پاکستان کے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر اکبر ایس بابر نے تحریک انصاف پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر کا چیئرمین سے ملاقات کے بانی لکھا کہ
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :