چیمپئینز کپ کرکٹ کا مستقبل خطرے میں پڑگیا، اس کی جگہ پینٹنگولر کپ کو بحال کرنے کی باتیں ہونے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر پی سی بی نے گزشتہ دنوں اصلاحات کیلئے ایک کمیٹی قائم کی تھی، اس کا پہلا اجلاس گزشتہ دنوں منعقد ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ مطلوبہ فوائد نہ ملنے پر چیمپئینز کپ کو ختم کرنے پر غور ہونے لگا، 50 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں لینے والے مینٹورز کا مستقبل کیا ہوگا اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایک تجویز انھیں کوئی اور کام سونپنے کی بھی ہے، ماضی کی طرح چار روزہ، ون ڈے اور ٹی20 پینٹنگولر ٹورنامنٹس کرانے پر بھی بات ہوئی۔

مزید پڑھیں: ڈومیسٹک کرکٹ اسٹریکچر میں پھر تبدیلی کے اشارے ملنے لگے

اس میں قائد اعظم ٹرافی اور ڈپارٹمنٹل ایونٹ کی دونوں فائنلسٹ سائیڈز سمیت ایک پی سی بی کی ٹیم شامل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس میں ملک بھر کے بہترین کرکٹرز کو لیا جائے گا،ہر ٹیم کے ساتھ پروفیشنل کوچ کا تقرر ہوگا، میٹنگ میں ریجنز کے نمائندوں نے ڈومیسٹک ٹیموں کی تعداد 18 سے 9 کرنے کی تجویز مسترد کردی۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل ٹیموں کے ساتھ اینٹیگریٹی آفیسرز کیوں تعینات نہیں؟

سلور اور گولڈ کی الگ کیٹیگریز میں شمولیت، چھوٹے شہروں کی ٹیموں کو یکجا یا ریجنز و ڈپارٹمنٹ کو ایک ساتھ کرنے کی باتیں بھی انھیں متاثر نہ کر پائیں، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیمیں 3 سال تک برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا تھا، اسے ایک برس میں ہی تبدیل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: 'کیا تم نے ٹرائل میچز کھیلے ہیں؟' عمر اکمل کی وہاب پر تنقید

ایک ریجنل آفیشل نے سلیکشن سمیت دیگر امور میں پی سی بی شعبہ ڈومیسٹک کرکٹ کی مداخلت کو مسائل کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود تمام انتظامات سنبھالنے کی اجازت ہونی چاہیے، چھوٹے شہروں سے ٹیلنٹ نہ آنے پر بھارتی رنجی ٹرافی کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ جھاڑکھنڈ سے صرف ایک سپراسٹار مہندرا سنگھ دھونی سامنے آیا مگر وہاں کی ٹیم ڈومیسٹک ایونٹ میں ہمیشہ شامل ہوتی ہے۔

آسٹریلوی کرکٹ میں اسٹیو وا کے بارے میں بھی ایسی ہی مثال دی گئی۔

شرکا نے بورڈ پر زور دیا کہ ٹیمیں برقرار رکھتے ہوئے کوالٹی بہتر بنانے پر توجہ دیں اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں گے، اس حوالے سے اگلی میٹنگ میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آمد بھی متوقع ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی سی بی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے کروڑوں غریب موبائل صارفین کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی
  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • ’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری
  • راولپنڈی: گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ملوث نکلا
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب