سوئٹزر لینڈ پہلگان واقعہ کی غیر جانبدار ملک سے تحقیقات کروانے کے آئیڈیا سے متفق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سٹی42: دنیا کے جھگڑوں میں غیر جانب دار رہنے کے عادی سوئٹزر لینڈ نے ایٹمی قوت پاکستان کے ساتھ بے سبب الجھنے کی نریندر مودی کی احمقانہ روش پر خاموش احتجاج کرتے ہوئے خود پہلگام واقعے پر غیر جانب دار تحقیقات کر دینے کی پیشکش کردی۔
سوئٹزر لینڈ کے وزیر خٓرجہ نے یہ پیش کش پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کی۔ سوئٹزر لینڈ کے وزیر خٓرجہ کو فون پاکستان کے وزیر خارجہ نے کیا تھا۔ سوئس وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کا نکتہِ نظر سنا اور پاکستان کے مؤقف اور کسی غیر جانبدار ملک کے ذریعہ پہلگان وقعہ کی تحقیقات کے پاکستانی مطالبے کی حمایت کر دی۔
قصور : پسند کی شادی نہ ہونے پراپنےہی گھر کا صفایا کرنے والی لڑکی پکڑی گئی
اس گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یونان کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلی فون پر بات کی۔ اسحاق ڈار نے گریک فارن منسٹر سے بھی بھارت کے بے بنیاد الزامات اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اشتعال انگیز اقدام ک یشکایت کی اور انہیں نریندر مودی حکومت کے اقدامات اور عزائم کے متعلق پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورمز پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
سانحہ نو مئی کے تمام مقدمات یکجا کرنے کی درخواست 8 مئی کو سماعت کیلئے مقرر
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سوئٹزر لینڈ پاکستان کے اسحاق ڈار کے وزیر
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔