یورینیم افزودگی کے ایرانی حق پر روس کی تاکید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات کی تصدیق کرتے ہوئے، عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) میں روسی نمائندے نے عدم جوہری پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت ایران کے تمام حقوق کو ناقابل تردید قرار دیا ہے اسلام ٹائمز۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) میں روسی نمائندے میخائیل اولیانوف نے مکمل جوہری فیول سائیکل کے حصول پر مبنی ایرانی حق پر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی تاکید کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ "ایرانی وزیر خارجہ بالکل درست کہتے ہیں!" اس بارے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اپنے پیغام میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ مَیں ایران و امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے اس حساس مرحلے پر تفصیلی تبصرے سے گریز کو ترجیح دیتا ہوں، میخائیل اولیانوف نے لکھا کہ عدم جوہری پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی بنیاد پر، رکن ممالک کی نہ صرف کچھ بنیادی ذمہ داریاں ہیں، بلکہ وہ متعدد بنیادی حقوق سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں کہ جن پر کسی صورت سوال نہیں اٹھایا جا سکتا!!
واضح رہے کہ ایران میں مقامی یورینیم افزودگی پر پابندی سے متعلق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے، اپنے سوشل میڈیا پیغام میں تاکید کی ہے کہ "ایران، NPT کے بانی دستخط کنندگان میں سے ایک ہونے کے طور پر، ایک مکمل نیوکلیئر فیول سائیکل رکھنے کا پورا حق رکھتا ہے!"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ کرتے ہوئے
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔