یورپ سے تعلق رکھنے والے چار مسلمان حجاج، جن میں تین اسپینی شہری اور ایک مراکشی حاجی شامل ہیں، وہ گھوڑوں پر سفر کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچ گئے، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

یہ منفرد قافلہ سعودی عرب کے شمالی علاقے القریات کی الحدیثہ بارڈر کراسنگ پر پہنچا، جہاں سعودی حکام اور رضاکاروں نے پھول، تحائف اور پرجوش نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ 

الحدیثہ مرکز کے ڈائریکٹر، ممدوح المطیری نے اس سفر کو "ایمان اور عزم کی اعلیٰ مثال" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: "یہ حیران کن سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ حجاجِ کرام کس قدر روحانی جذبے سے سرشار ہو کر بیت اللہ کا رخ کرتے ہیں۔"

سعودی بارڈر حکام، طبی ٹیموں اور معاون عملے نے حجاج کا طبی معائنہ کیا، ریفریشمنٹ فراہم کی، اور رہنمائی کی۔ الحج تیاریاں حکومت کے جامع منصوبے کے تحت جاری ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے حجاج کو سہولیات مہیا کی جا سکیں۔

الحدیثہ کی مقامی ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن نے ایک تقریب کا انعقاد کیا، جہاں روایتی انداز میں مہمان نوازی کی گئی۔ حجاج کو خوش آمدیدی کٹس، پھول اور تحائف دیے گئے۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری