دوحہ (نیوز ڈیسک) بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک چشم کشا رپورٹ میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ پہلگام حملے کو “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیتے ہوئے بی جے پی حکومت کی کشمیر پالیسی پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ بی جے پی کے سیاسی مفادات کے لیے ایک “ڈرامہ” تھا، جس کا مقصد انتہاپسند قوم پرستی کو فروغ دینا اور کشمیریوں کو مزید دباؤ میں لانا تھا۔

الجزیرہ نے رپورٹ میں کہا ہے کہ بی جے پی کی کشمیر سے متعلق حکمت عملی آمریت پر مبنی ہے، جس کے تحت گودی میڈیا کے ذریعے شدت پسند بیانیہ عوام تک پہنچایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 1500 سے زائد کشمیریوں کو بغیر کسی ثبوت کے حراست میں لیا گیا، جبکہ ہزاروں مکانات کو تحقیقات کے بغیر مسمار کیا گیا۔

مزید کہا گیا کہ ظلم و جبر سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو رہا بلکہ بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بی جے پی کا آبادیاتی ایجنڈا کشمیریوں کی شناخت اور وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ رپورٹ میں انٹیلیجنس کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور جنگی جنون کو ہوا دینے کے حکومتی اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، میڈیا پر سنسرشپ عائد ہے، اور زمینی حقائق کو چھپانے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ سیکیورٹی کے نئے اقدامات کشمیری عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جبکہ سیاسی مخالفین اور کارکنوں کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی لڑکی سے شادی کرنے والا بھارتی فوجی نوکری سے فارغ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: رپورٹ میں بی جے پی

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق