خلیج تعاون کونسل نے پاکستان اور بھارت کو کشیدگی ختم کرکے مذاکرات شروع کرنے کا مشورہ دے دیا جبکہ عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے جنوبی ایشیا میں بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال پر کونسل کے رکن ممالک کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت مسلمانوں کو قربانی کا بکرا نہ بنائے، اسلامو فوبیا کے خلاف اقدامات کرے۔
انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان فوری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی جس میں درجنوں بے گناہ افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔
جاسم البدیوی نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق اختلافات کے حل کے لیے پرامن ذرائع اختیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، انہوں نے دہشت گردی کی مخالفت میں خلیج تعاون کونسل کے ثابت قدم اور اصولی موقف کا بھی اعادہ کیا۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری سے اپنی کوششیں تیز کرنے پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب تنظیم کے آزاد ہیومن رائٹس کمیشن جدہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں اجتماعی سزاؤں کی پالیسی ترک کرے ، بھارتی انتہاپسند مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کو ہوا دے رہے ہیں، 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں کا تحفظ بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
او آئی سی کمیشن نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر زور ڈالے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سے باز رہے اور تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خلیج تعاون کونسل کونسل کے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ