قومی اسمبلی میں بھارتی جارحیت کیخلاف قرارداد لانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور بھارتی جنگی جارحیت کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کا کہنا ہے کہ متفقہ قرارداد آج شام ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں لائی جائے گی۔
اجلاس کے موقع پر اراکین اسمبلی اس اہم ترین معاملے پر اظہار خیال بھی کریں گے، اس کے علاوہ بھارتی جارحیت اور ریاستی سرحد پار دہشت گردی پر بھی کھل کر بات کی جائے گی، حکومت کی طرف سے قومی بیانیہ اور پالیسی بھی وضع کی جائے گی۔
جنوبی کوریا کے ایک ہوٹل سے جاننے والے کی رقم چرا کر بیرونِ ملک فرار کی کوشش کرنے والا چینی شخص ایئرپورٹ پر گرفتار
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر حکومت اپنی حکمت عملی سے آگاہ کرے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاک بھارت صورتحال پر سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق ان کیمرا سیشن میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی رہنماؤں کو پاک فوج کی تیاریوں جبکہ وزیر اطلاعات نے سیاسی قائدین کو حکومتی سفارتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔