UrduPoint:
2026-06-02@22:34:12 GMT

روس کے راضی ہوتے ہی جنگ بندی کسی بھی لمحے ممکن، زیلنسکی

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

روس کے راضی ہوتے ہی جنگ بندی کسی بھی لمحے ممکن، زیلنسکی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 مئی 2025ء) یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ جنگ ​​بندی اسی وقت ممکن ہے جب کریملن اس پر راضی ہو جائے۔ یوکرین کے صدر نے چیک صدر پیٹر پاول کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ماسکو کے ساتھ جنگ ​​بندی "کسی بھی لمحے" ممکن ہے۔

زیلنسکی کے تبصرے اس کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جب انہوں نے روسی صدر کے 8 تا10 مئی کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے "محض دکھاوا" قرار دیا۔

پوٹن کی طرف سے تین روزہ جنگ بندی ایک ’کھیل‘ ہے، زیلنسکی

زیلنسکی نے ان تبصروں سے پہلے یہ بھی کہا تھا کہ 9 مئی کو ماسکو میں دوسری عالمی جنگ کی یادگاری تقریب میں شرکت کرنے والے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ "اگر کچھ ہوتا ہے تو یوکرین اس کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا"۔

(جاری ہے)

زیلنسکی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ روس، دباؤ میں اضافہ کیے بغیر، جنگ کے خاتمے کے لیے حقیقی عملی اقدامات نہیں کرے گا۔

آج 54 واں دن ہے جب روس نے مکمل طور پر جنگ بندی کی امریکی تجویز کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔"

یوکرین جنگ: زیلنسکی امن معاہدے میں رخنہ ڈال رہے ہیں، ٹرمپ

انہوں نے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی کسی بھی لمحے ممکن ہے، یہاں تک کہ آج سے بھی، اور سفارت کاری کو حقیقی موقع فراہم کرنے کے لیے اسے کم از کم 30 دن جاری رہنا چاہیے۔"

یوکرین نے سعودی عرب میں امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان امن مذاکرات کے بعد مارچ میں امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ 30 روزہ جنگ بندی کو قبول کر لیا تھا۔

'روسی پیش کش محض دکھاوا'

روس نے ابھی تک اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ہے، اور ولادیمیر پوٹن نے دوسری عالمی جنگ عظیم میں نازی جرمنی پر سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں کی فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر 8 تا10 مئی کو تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

زیلنسکی نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے "محض دکھاوا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تین دنوں میں تین سال سے زیادہ پرانی جنگ کو ختم کرنے کے لیے بات چیت ممکن نہیں جو فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

جنگ بندی کے لیے پوٹن کا صرف ایک فیصلہ کافی، چیک صدر

چیک صدر پیٹر پاول نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے تبصروں کی حمایت کی جس میں ماسکو پر 30 دن کی عبوری جنگ بندی پر رضامندی کے لیے دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاول نے نامہ نگاروں کو بتایا، "اگر کسی کے ہاتھ میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام کارڈز ہیں تو وہ صدر پوٹن ہیں، جو ایک ہی فیصلے سے ایسا کر سکتے ہیں۔

"

"لیکن ان کی یہ قوت ارادی اب تک سامنے نہیں آئی۔"

چیک حکومت روسی افواج کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کییف کی کوششوں کی مضبوط حمایتی رہی ہے، اور اس نے یوکرین کو بڑے پیمانے پر گولہ بارود فراہم کرنے کی مہم کی قیادت کی ہے ۔

زیلنسکی، جو خاتون اول اولینا زیلنسکا کے ساتھ چیک جمہوریہ کے دورے پر ہیں، پیر کو چیک وزیر اعظم پیٹر فیالا سے ملاقات کریں گے، جس میں چیک گولہ بارود فراہمی کی مہم بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

حملے جاری

یوکرینی حکام نے بتایا کہ روس نے رات بھر کییف پر ڈرون حملے کیے، جس سے شہر کے کچھ حصوں میں رہائشی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

کییف کے جنرل اسٹاف کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں

یوکرین کے جنرل اسٹاف نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ روس مشرقی یوکرین میں اپنی جارحیت کو شدت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ڈونیٹسک کے علاقے میں اسٹریٹجک شہر پوکروسک کے ارد گرد لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں یوکرین کی افواج نے کہا کہ انہیں اتوار کو 70 حملوں کو روکنا پڑا، جبکہ 12 مزید جھڑپیں ابھی بھی جاری ہیں۔

پوکروسک نقل و حمل کا ایک اہم مرکز ہے اور ماسکو افواج مبینہ طور پر اس کے قریب آ رہی ہیں۔

ان معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ماسکو کا یہ حملہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے لیے امریکہ کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کے باوجود سامنے آیا ہے۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زیلنسکی نے یوکرین کے کے ساتھ کہا کہ کہ روس کے لیے نے کہا

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب