چینی صدر کے خصوصی ایلچی کی گیبون کی صدارتی تقریب حلف برداری میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
چینی صدر کے خصوصی ایلچی کی گیبون کی صدارتی تقریب حلف برداری میں شرکت WhatsAppFacebookTwitter 0 5 May, 2025 سب نیوز
لیبر وئیل:گیبون کے صدر اینگوما کی دعوت پر چین کے صدر شی جن پھنگ کے خصوصی ایلچی اور قومی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے نائب صدر مو ہونگ نے گیبون کے دارالحکومت لیبرویئل میں صدر اینگوما کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ 4 تاریخ کو صدر اینگوما نے لیبرویئل میں مو ہونگ سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران مو ہونگ نے صدر اینگوما کو شی جن پھنگ کی جانب سے سلام اور نیک خواہشات پیش کیں اور کہا کہ چین گیبون کے ساتھ تعلقات کی ترقی کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک مل کر روایتی دوستی سے قوت حاصل کرنے، باہمی اعتماد کو بڑھانے اور باہمی فائدے کے اصول پر آگے بڑھنے کے لیے کوشش جاری رکھیں گے تاکہ چین-گیبون جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔
صدر اینگوما نے تقریب حلف برداری میں خصوصی ایلچی بھیجنے پر صدر شی جن پھنگ کے لئے شکریے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اینگوما نے کہا کہ گیبون چین کے ساتھ روایتی دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور ایک چین کے اصول کی پختہ طور پر پاسداری کرتا رہے گا، چین کے ساتھ ہر میدان میں عملی تعاون کو گہرا کرے گا، اور دوطرفہ تعلقات میں مزید ترقی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین میں کشتی حادثہ کے باعث 10 افراد ہلاک صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا شرح سود میں 5 فیصد تک کمی کا مطالبہ ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کیلئے مزید اختیارات مل گئے، آرڈینس جاری ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کا معاملہ،صدر مرکزی تنظیم تاجران کاشف چوہدری نے فیصلے کو معیشت دشمن قرار دیدیا کیلیفورنیا چین کے ساتھ تجارت کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے گا، گورنر کیلیفورنیا چین میں غیر ملکی تجارت کی پریمئم پراڈکٹس کی خریداری کا حجم 16.7 بلین یوآن سے متجاوز ہونے کی توقع، چینی وزارت تجارت چینی صدر روس کا سرکاری دورہ کریں گے، وزارت خارجہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خصوصی ایلچی حلف برداری
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔