فوٹو فائل

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ بھارت نے خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کر دیا۔

اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے بعد سوشل میڈیا پر دہشت گردی میں مصروف ہے، بھارت سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کرکے ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کی مثال پر گامزن ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا بھارت میں ایکس اکاؤنٹ بلاک

ترجمان بلاول ہاؤس سریندر ولاسائی کا کہنا ہے کہ ثابت ہوا کہ بھارت غیر جمہوری ملک اور مودی بزدل شخص ہیں، بلاول کا ایکس اکاؤنٹ معطل کرنا شتر مرغ کا ریت میں سر دبانے کے مترادف ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھاتی رہے گی، گجرات کے بعد پہلگام واقعے پر بھی بھارتی عوام مودی کا محاسبہ کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بھی بھارت میں ایکس اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا۔

اس حوالے سے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان بلاول ہاؤس کا کہنا تھا کہ ثابت ہوا بلاول بھٹو زرداری سے مودی ڈرتے ہیں، ثابت ہوا کہ بھارت غیر جمہوری ملک اور مودی بزدل شخص ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول کا ایکس اکاؤنٹ معطل کرنا شتر مرغ کا ریت میں سر دبانے کے مترادف ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایس پی آر کے سوشل میڈیا چینل بھارت میں بند کردیے گئے

بھارت کی شکایت پر وزیراعظم کے سوشل میڈیا چینل سے کاکول میں ان کے خطاب کی ویڈیو بھی ہٹادی گئی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے گجرات کے قصائی کو پہلی بار دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، پی پی پی چیئرمین بلاول جنگی جنون میں مبتلا مودی کو آئینہ دکھاتے رہیں گے۔


.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بھٹو زرداری کا اکاؤنٹ بلاک ایکس اکاؤنٹ سوشل میڈیا بلاول بھٹو کہ بھارت کا کہنا

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو