ویسٹ انڈیز کا آئرلینڈ اور انگلینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
ویسٹ انڈیز نے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
شائی ہوپ ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ فاسٹ بولرز شامار جوزف اور میتھیو فورڈ کی انجری سے صحتیاب ہو کر اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔
نوجوان بیٹر امیر جنگو جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے ڈیبیو پر 79 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی، ایک بار پھر اسکواڈ کا حصہ ہیں۔
وکٹ کیپر بیٹر جیول اینڈریو کی بھی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ میں مصروف شمرون ہیٹمائر کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔
آئرلینڈ کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز 21 مئی سے ڈبلن کے کلونٹارف کرکٹ کلب میں شروع ہوگی جبکہ انگلینڈ کے خلاف سیریز 29 مئی سے ایجبسٹن میں کھیلی جائے گی۔
ویسٹ انڈیز اس وقت آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں نویں پوزیشن پر ہے اور 2027 ورلڈ کپ کے لیے خودکار کوالیفیکیشن حاصل کرنے کے لیے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ویسٹ انڈیز ون ڈے اسکواڈ:
شائی ہوپ (کپتان)، جیول اینڈریو، کیکی کارٹی، روسٹن چیز، میتھیو فورڈ، جسٹن گریوز، امیر جنگو، الزاری جوزف، شامار جوزف، برینڈن کنگ، ایون لوئس، گڈاکیش موٹی، شیرفین ردرفورڈ، جیڈن سیلز، روماریو شیفرڈ
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز کے خلاف
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔