نسل کشی کیس آئی سی جے کے دائرہ اختیار میں نہیں، متحدہ عرب امارات
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 مئی 2025ء) ہالینڈ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے پیر کے روز سوڈان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دارفور میں نسل کشی کو ہوا دینے کا کام کیا۔
گزشتہ ماہ خرطوم نے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کے سامنے یہ دلیل دی تھی کہ متحدہ عرب امارات نیم فوجی دستوں کو ہتھیار فراہم کر کے اقوام متحدہ کی نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
دار فور میں نسل کشی کے پیچھے یو اے ای کا ہاتھ ہے، سوڈان
عدالت نے کیا کہا؟اس معاملے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے ججوں نے اپنے فیصلے میں متحدہ عرب امارات کا ساتھ دیا اور اس کے ان دلائل کو قبول کر لیا کہ اقوام متحدہ کی عدالت کے پاس اس کیس پر فیصلہ کرنے کے دائرہ اختیار کا "بظاہر فقدان" ہے۔
(جاری ہے)
سوڈان نے عدالت سے خلیجی ملک کے خلاف فوری طور پر بعض اقدامات کی درخواست کی تھی۔
تاہم متحدہ عرب امارات نے اپنے حق میں مضبوطی سے دلیل دی کہ عدالت اس معاملے پر فیصلہ دینے کے لیے قانونی طور پر اہل ہی نہیں ہے۔
جب متحدہ عرب امارات نے سن 2005 میں اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن پر دستخط کیے تھے، تو اس نے ایک اہم شق سے متعلق اپنے "تحفظ" کو بھی اس میں شامل کیا تھا، جس کے تحت تنازعات کی صورت میں ایک ملک کو دوسرے ملک کے خلاف آئی سی جے میں مقدمہ چلانے کی اجازت ہوتی ہے۔
سوڈان نے متحدہ عرب امارات کے خلاف عالمی عدالت میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کر دیا
تاہم چونکہ اس وقت امارت نے یہ تحفظ حاصل کر لیا تھا، اس لیے آئی سی جے کو اب اس پر مقدمہ چلانے کا اختیار نہیں ہے۔
اماراتی فریق نے کہا کہ اس ریزرویشن کا مطلب یہ ہے کہ ہیگ میں قائم آئی سی جے کے پاس اس معاملے میں مداخلت کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے بھی اس بات سے اتفاق کیا، البتہ اس نے خطے میں تشدد پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔
آئی سی جے نے کہا کہ اسے "سوڈان میں انسانی المیے پر گہری تشویش ہے، جو موجودہ تنازعے کا پس منظر پیش کرتا ہے۔"
سوڈان میں جنسی تشدد جنگی حربے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، اقوام متحدہ
عدالت نے مزید کہا، "پرتشدد تنازعے کا تباہ کن اثر یہ ہے کہ جس کے نتیجے میں جانوں کا بے حساب نقصان اور مصائب، خاص طور پر مغربی دارفور میں ہو رہا ہے۔
"اپنے فیصلے میں، ججوں نے مزید کہا کہ استثنی کے باوجود بھی ریاستیں "اپنے آپ سے منسوب ایسے اعمال کے لیے ذمہ دار ہیں، جو ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے خلاف ہوں۔"
سوڈان کی ایک مصروف مارکیٹ پر حملہ، کم از کم 54 افراد ہلاک
سوڈان کی خانہ جنگی میں کیا ہو رہا ہے؟اپریل 2023 سے ہی سوڈان کے فوجی سربراہ عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی دستوں (آر ایس ایف) کے کمانڈر محمد حمدان دقلو کے درمیان طاقت کی 'وحشیانہ کشمکش' کے سبب افراتفری میں ڈوبا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ رپورٹ کے مطابق اس تنازعہ نے ایسا بحران جنم دنیا ہے، جسے امدادی ایجنسیاں اب دنیا کا بدترین نقل مکانی اور بھوک کا بحران قرار دیتی ہیں۔ سرکاری طور پر ملک کے پانچ خطوں میں اس بحران کا اعلان کیا گیا ہے۔
شمالی دارفور ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، جہاں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ تین ہفتوں میں کم از کم 542 شہری مارے گئے۔
اتوار کے روز ہی آر ایس ایف نے پورٹ آف سوڈان پر حملہ کیا تھا، جو فوج کے مطابق ملک کی دو سالہ جنگ کے دوران فوج سے منسلک حکومتی علاقے پر پہلا بڑا حملہ تھا۔
ص ز/ ج ا (اے ایف پی، روئٹرز)
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کی کے خلاف رہا ہے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔