بھارت کے پراکسی دہشتگردوں کا بلوچستان میں وار، سات فرزندانِ ارضِ پاک شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
سٹی42: بھارت کی شر پسند مرکزی حکومت کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شر انگیزی کر رہی ہے اور پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی سازشیں کر رہی ہے تو بلوچستان مین بھارت کے پراکسی دشہتگردوں نے سکیورٹی فورسز پر چھپ کر وار کر کے کئی اہلکاروں کو شہید کر دیا۔
ضلع بولان کے علاقے مچھ میں بھارت کی آلہ کار دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے کارندوں کے بزدلانہ حملے میں 7 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کل وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا
آئی یس پی آر کے مطابق بھارتی آلہ کار بی ایل اے کے دہشت گردوں نے مچ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر نے اس واقعہ میں شہید ہونے والے پاک وطن کے جاں نثاروں کے نام جاری کر دیئے ہیں۔
بی ایل اے کی بزدلانہ کارروائی میں شہید ہونے والوں میں صوبیدار عمر فاروق، نائیک آصف خان، نائیک مشکور علی، سپاہی طارق نواز، سپاہی واجد احمد فیض، سپاہی محمد عاصم اور سپاہی محمد کاشف خان شامل ہیں۔
صنعا کے کئی بجلی گھر اسرائیلی بمباری سے تباہ
آئی ایس پی آر نے کہا ہےکہ اس بزدلانہ اور سنگین کارروائی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائےگا، سکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
پاکستانی سرزمین پر سرگرم بھارت اور اس کے آلہ کاروں کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے، ہماری بہادر سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور غیور پاکستانی قوم بھارتی آلہ کاروں کوعبرت کا نشان بنائیں گے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 553 پوائنٹس کمی
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔