پاک بھارت کشیدگی؛ پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش، آمنہ حسن شیخ کا عالمی برادری سے نوٹس لینےکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
لاہور:
پنجاب اسمبلی کے ینگ پارلیمنٹرینز فورم (YPF) کی صدر آمنہ حسن شیخ نے بھارت کی جانب سے حالیہ جھوٹے دہشت گرد حملے اور اس کے بعد پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی۔
اس قرارداد میں آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے جھوٹ کا ایک نیا ڈرامہ رچایا گیا ہے تاکہ اپنی اندرونی ناکامیوں اور سیاسی بحرانوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس طرح کے واقعات اب محض اتفاق نہیں رہے بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں جس کے ذریعے بھارت نہ صرف پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو ہمارا جواب وہ ہوگا جو تاریخ یاد رکھے گی۔ پاکستان کی افواج، ریاستی ادارے، اور عوام مکمل طور پر متحد اور تیار ہیں۔ ہم نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے بلکہ ہر اس سازش کو بھی بے نقاب کریں گے جو ہماری خودمختاری کے خلاف ہو۔
آمنہ حسن شیخ نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور دولتِ مشترکہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے اس مسلسل رویے کا نوٹس لیں جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں جنگی ماحول پیدا کرنے کی کھلی کوشش بھی ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ایک غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تاکہ سچ سامنے آ سکے اور بھارت کا جھوٹ بے نقاب ہو۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ خاموش تماشائی نہیں بلکہ اس خطے کے مستقبل کا معمار ہے۔ ہم صرف الفاظ کے نہیں، عمل کے بھی وارث ہیں۔ ہم امن کے داعی ہیں، لیکن اگر جنگ ہم پر مسلط کی گئی تو ہمارا ردعمل دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔