مولانا مسعود ازہر کی بڑی بہن اور بھتیجی خاندان سمیت بھارتی حملے میں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق مولانا مسعود ازہر کے بھائی مفتی عبدالرؤف کے نواسے، ان کی بڑی بیٹی کے چاروں بچے، سعدیہ خاتون اور ان کے شوہر سمیت اکثر عورتیں اور بچے زخمی اور جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرینیں ابھی ملبہ ہٹا رہی ہیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بہانہ بنا کر پاکستان کے علاقے بہاولپُور میں کالعدم جیش محمد کے مرکز عثمان و علی پر بھارتی حملے کے نتیجے میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی بڑی بہن اور ان کا خاندان، مولانا کشف کا پورا خاندان جاں بحق ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا مسعود ازہر کے بھائی مفتی عبدالرؤف کے نواسے، ان کی بڑی بیٹی کے چاروں بچے، سعدیہ خاتون اور ان کے شوہر سمیت اکثر عورتیں اور بچے زخمی اور جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرینیں ابھی ملبہ ہٹا رہی ہیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ مولانا مسعود ازہر کے خاندانی ذرائع کی جانب سے حکومت پر سخت نکتہ چینی کیساتھ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں: 1۔ بھارتی میزائلوں نے سینکڑوں کلومیٹر دور سے "سو فیصد ایکوریسی" کے ساتھ ٹارگٹڈ مدارس کو کیسے نشانہ بنایا؟ 2۔ پاکستان کا اربوں ڈالر کا اینٹی میزائل سسٹم کسی بھی میزائل کو انٹرسیپٹ کرنے میں ناکام کیسے رہا؟ 3۔ اگر یہ ایئر سٹرائیک تھی تو پھر ایئر ڈیفنس سسٹم کیسے سوتا رہ گیا جبکہ بالاکوٹ حملے کے وقت تو فوراً بھارتی طیاروں کو انٹرسیپٹ کر لیا تھا؟ 4۔ بھارت نے اتنے اعتماد کے ساتھ پاکستان کے کئی شہروں میں دیدہ دلیری سے حملے کیسے کئے؟ کیا اسے عالمی سطح پہ کہیں سے یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان تعاون کرے گا؟ 5۔ امریکی نائب صدر نے کہا تھا کہ بھارت کنٹرولڈ کاروائی کرے اور پاکستان تعاون کرے۔ کیا بھارت کا پاکستانی مدارس پہ مخصوص تنظیموں پہ اٹیک اور پاکستانی دفاعی نظام کا تماشا دیکھنا اس حکم کی تعمیل تھا؟ 6۔ پاکستان نے آزاد کشمیر سمیت مختلف مخصوص مذہبی گروہوں کے مدارس خالی کروا دیے تھے ۔ کیا انھیں حملے کی نوعیت کی پیشگی اطلاع تھی ؟ اگر ہاں تو کیا یہ اطلاع بھارت نے دی تھی؟ 7۔ عطا تارڑ نے آج پارلیمنٹ میں ایک عجیب وغریب تقریر کی اور کہا کہ آئیے مل کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں ۔ تارڑ جیسے بغضی کی آج کی اچانک تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی وزیر اطلاعات کو آج حملے کی پیشگی اطلاع تھی ۔ پھر تیاری کیوں نہ تھی؟ 8۔ بھارت بار بار کاروائی کی دھمکیاں دیتا رہا ۔ پاکستان نے کیونکر لائحہ عمل طے نہ کیا کہ کاروائی کی صورت میں فوری جوابی ردعمل کیا ہونا چاہیے؟ 9۔ بھارت کو کاروائی پہلے 72 گھنٹے میں کرنی تھی مگر بارہ تیرہ دن گزار کر نو مئی سے دو دن قبل کیوں چنا گیا جب پاکستان بھر میں مسلط رجیم کے خلاف احتجاج ہونے تھے؟ 10۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی کاروائی متوقع تھی اور امید ہے کہ یہ معاملہ جلدی ختم ہو جائے گا ۔ کیا دونوں جانب عوامی حمایت کھونے والی رجیم نے تیسری طاقت کے ساتھ باہمی تعاون سے یہ پلاننگ کی جس میں محدود کاروائی سے دونوں رجیم مقبولیت سمیٹیں گی؟ 11۔ پاکستان پہ اتنے بڑے حملے کے باجود مریم نواز اور شہباز شریف کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے مودی کے خلاف کوئی بیان کیوں نہیں آیا۔ کیا شریف فیملی نے بھارت کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی بنیاد پہ یہ مشترکہ سٹیج رچا ہے جس کی بینیفشریز دونوں جانب کی رجیم ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا مسعود ازہر کے ساتھ کی بڑی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔