لاہور پولیس نے کسی بھی ہنگامی یا دہشت گردی کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر میں فرضی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ قذافی اسٹیڈیم میں منعقدہ مشق کے دوران دہشت گردی کی ایک کارروائی کو ناکام بنانے کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔

مشقوں میں لاہور پولیس کے تمام ونگز بشمول آپریشنز، ایلیٹ فورس، ڈولفن اسکواڈ، پٹرولنگ، ٹریفک پولیس، ایس ایچ اوز اور اے ایس پیز نے حصہ لیا، جبکہ ریسکیو 1122 اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں نے بھی مشق کا حصہ بن کر اپنی تیاریوں کا مظاہرہ کیا۔

مشق کی نگرانی ایس پی ماڈل ٹاؤن اخلاق تارڑ نے کی، جبکہ مجموعی انچارج ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران تھے۔

مزید پڑھیں: کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی آپریشن معطل، لاہور اور سیالکوٹ کے فضائی راستے بند

ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ ان مشقوں کا مقصد دشمن کی کسی بھی مذموم چال کو بروقت اور مؤثر انداز میں ناکام بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاہور پولیس حکومت پنجاب اور آئی جی پولیس کے احکامات کی روشنی میں ہمہ وقت چوکس ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اپنی افواج کے شانہ بشانہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لاہور پولیس

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار