مرکزی انجمنِ امامیہ گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ملت جعفریہ ایسے کسی بھی جنگی صورت حال میں اپنے ایمان کامل کے ساتھ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہم پاکستان کو بنانے والوں میں شامل تھے، آج بھی پاکستان کو بچانے والوں کی صفِ اول میں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمنِ امامیہ گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزی اور بزدلانہ حرکتوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، بھارت کی جانب سے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس کی پست ذہنیت اور ریاستی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہے۔ بھارت بارہا پہلگام جیسے خود ساختہ واقعات کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کرتا رہا ہے، لیکن اب اس نے حد پار کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایسے بزدلانہ حملے نہ ہمیں ڈرا سکتے ہیں، نہ ہمارے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں۔ بھارت اپنے اندرونی خلفشار، انسانی حقوق کی پامالیوں اور ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگاتا ہے۔ لیکن پاکستان اب مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ بھارت کی ہر جارحیت کا منہ توڑ، فیصلہ کن اور عبرتناک جواب دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملت جعفریہ ایسے کسی بھی جنگی صورت حال میں اپنے ایمان کامل کے ساتھ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہم پاکستان کو بنانے والوں میں شامل تھے، آج بھی پاکستان کو بچانے والوں کی صفِ اول میں ہیں۔ مرکزی انجمنِ امامیہ بھارت کو خبردار کرتی ہے کہ ہم حسینی فکر کے پیروکار ہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے اور ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس لے کر آئے ہیں۔ ہمارے صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارت جان لے اگر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا گیا تو ہر حسینی سینہ ایک سپاہی کا کردار ادا کرے گا اور ماضی کے حملوں کا بھی حساب لیا جائے گا۔ ہم حسینی ہیں! ہمارا راستہ کربلا کا راستہ ہے۔ جہاں حق کے لیے سر کٹایا جاتا ہے، مگر باطل کے سامنے جھکا نہیں جاتا، ہم عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور اقوامِ متحدہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کی جارحیت کا نوٹس لیا جائے اور جنوبی ایشیا کو جنگ کی طرف دھکیلنے والی ریاست کو لگام دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کو بھارت کی

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو