امریکا کا پاکستان اور بھارت سے بات چیت کے براہ راست چینل دوبارہ کھولنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 08 مئی ۔2025 ) امریکا نے پاکستان اور بھارت سے بات چیت کے براہ راست چینل دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے غیرملکی نشریاتی ادارے کے مطابق ترجمان امریکی سیکیورٹی کونسل برائن ہیوز نے پاکستان بھارت کشیدگی پر بیان میں کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال سے واقف ہیں.
(جاری ہے)
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھاکہ میں چاہتا ہوں پاک بھارت ایک دوسرے پر حملے روکیں دونوں ممالک اختلافات کا حل نکالیں دونوں ممالک میں تناﺅ بڑھ رہا ہے میں اس جھگڑے کو روکنا چاہتا ہوں اگر میں کچھ کر سکوں تو حاضر ہوں. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق بیان دیتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل سے کام لیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکیں وائٹ ہاﺅس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرا موقف یہ ہے کہ میں دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہوں. انہوں نے کہاکہ میں دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ خود معاملے کو سلجھائیں، یہ صورت حال واقعی بہت خطرناک ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کو جواب دے رہے ہیں اور امید ہے کہ اب وہ رک جائیں گے امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ میری مدد کی ضرورت پڑی تو اس کیلئے میں موجود ہوں اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے اور شر انگیزی کو شرمناک قرار دیا. دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ کے وزیر ہیملش فیلکنر نے ہاﺅس آف کامنز کو بتایا کہ ہم انڈیا اور پاکستان دونوں کو مسلسل تحمل کا مظاہرہ کرنے کا پیغام دیتے آئے ہیں. انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے ایک فوری اور سفارتی راستہ تلاش کرنا ہوگا ہیملش فالکنر نے کہا کہ عام شہریوں کی جانوں کا ضیاع دل دہلا دینے والا ہے اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو کسی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا فریقین کو فوری طور پر ایسے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے جو علاقائی استحکام کی بحالی اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانیہ کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک نے کہا کہ بات چیت
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔