پاکستان نے 299 ارب کے انویسٹمنٹ بانڈز فروخت کردیے، اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2025ء)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی سے متعلق اعداد و شمار پیش کردیے۔ایس بی پی کے اعلامیے کے مطابق حکومت نے 299 ارب روپے مالیت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ (پی آئی بیز)فروخت کئے ہیں۔اعلامیے کے مطابق 2 سالہ پی آئی بیز کی کٹ آف ایلڈ 15 بیسز پوائنٹس کم ہوکر 11 اعشاریہ 79 فیصد رہی۔
(جاری ہے)
ایس بی پی اعلامیے کے مطابق نیلامی میں 3 سال کے 72 ارب روپے مالیت کے پی آئی بیز بیچے گئے، جن کی کٹ آف ایلڈ 19 بیسسز پوائنٹس کم ہو کر 11اعشاریہ689 فیصد رہی۔اعلامیے کے مطابق نیلامی میں 5 سال کے 69 ارب روپے مالیت کے پی آئی بیز بیچے گئے، ان کی کٹ آف ایلڈ 20 بیسسز پوائنٹس کم ہو کر 12 اعشاریہ 14 فیصد رہی۔ایس بی پی اعلامیے کے مطابق نیلامی میں 10 سال کے 53 ارب روپے مالیت کے پی آئی بیز بیچے گئے، جن کی کٹ آف ایلڈ 20 بیسسز پوائنٹس کم ہو کر 12 اعشاریہ 589 فیصد رہی۔اعلامیے کے مطابق 15 سالہ پی آئی بیز کی خریداری کی پیشکش مسترد کردی گئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ارب روپے مالیت کے اعلامیے کے مطابق پی ا ئی بیز پوائنٹس کم ایس بی پی فیصد رہی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔