پاکستان نے اب تک 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز مار گرائے: آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
سٹی42: افواج پاکستان نے دشمن کے جارحانہ عزائم کو ایک بار پھر ناکام بناتے ہوئے اب تک 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان ڈرونز کو سافٹ کل (تکنیکی) اور ہارڈ کل (ہتھیاری) طریقوں سے مار گرایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بزدلانہ حملے کے دوران پانچ جدید طیارے، ڈرونز اور متعدد فوجی پوسٹیں تباہ کروائیں جس کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اسرائیلی ساختہ ڈرونز کے ذریعے حملے شروع کیے۔
ملتان؛ پاک فوج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جبکہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ اٹھایا جا رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ افواج پاکستان دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور اس کے تمام مذموم عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔