وزیر خارجہ جیہون بیروموو کا اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان کیساتھ بھرپور حمایت کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
سٹی 42 : نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیروموو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انہیں خطے کی بدلتی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ جیہون بیروموو نے بھارت کے غیر قانونی بلا اشتعال حملوں کے نتیجے میں پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے ساتھ بھرپور یکجہتی و حمایت کا اظہار کیا ۔
پنجاب بھر کے سکولوں میں تعطیلات کا اعلان
آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے بے گناہ جانوں کے ضیاع پر پاکستانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا, دونوں راہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی توثیق کی, دونوں راہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت پر اتفاق کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔