بھارتی گولہ باری سے 11 افراد شہیدکتنے زخمی ہوگئے،آزاد کشمیر سے افسوسناک خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
مظفرآباد(نیوز ڈیسک)وزیر اطلاعات آزاد کشمیر مولانا مظہر سعید نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں اب تک 11 افراد شہید جبکہ 56 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ شہدا میں 3 بچے اور 4 خواتین بھی شامل ہیں۔
مولانا مظہر سعید کا کہنا تھا کہ بھارتی حملوں کے بعد مجموعی شہادتوں کی تعداد 28 تک پہنچ چکی ہے۔ وادی نیلم کے دو دیہات سے 572 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جب کہ 29 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور 206 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایل او سی کے علاقوں میں خوراک اور ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے تاکہ متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
مزیدپڑھیں:نورخان ایئر بیس پر بھارتی حملے کے بعد اب راولپنڈی میں کیسے حالات ہیں؟ حامد میر نے ویڈیو جاری کر دی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا