پاکستان کا بھارت کو منہ توڑ جواب؛ حرا مانی نے کنگنا رناوت کو آئینہ دکھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
پاکستان کی اداکارہ حرا مانی کی جانب سے بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت پر دیے گئے ایک سخت بیان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک پیغام میں اداکارہ حرا مانی نے کنگنا پر کڑی تنقید کی ہے اور بھارت کی انتہا پسند اینٹی مسلم اداکارہ اور سیاستدان کو آئینہ دکھایا ہے۔
حرا نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہریتھک روشن نے کنگنا کو "صحیح لات ماری”، کنگنا کے پاس کوئی کام نہیں رہا‘۔ انہوں نے کنگنا کو "چھپکلی” جیسے الفاظ سے بھی پکارا۔
اپنے پیغام میں حرا نے کہا کہ نہ صرف پاکستان میں کنگنا کو ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ بھارت میں بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
مزید برآں حرا مانی نے پاک فوج کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بھارت کو جو ردعمل ملا ہے، وہ ان کے آنسوؤں سے بھی کم نہیں ہوگا۔
سوشل میڈیا پر حرا مانی کو ان کے اس بیان پر سراہا جارہا ہے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کنگنا پاک بھارت کشیدگی کی شروعات سے ہی سوشل میڈیا پر پاکستان کیخلاف زہر اُگل رہی ہیں اور انہیں اب پاک آرمی کی جوابی کارروائی کے بعد سبق سیکھ لینا چاہیے۔
A post common by Lollywoodsparkoffical_ (@lollywoodsparkofficial_)
اداکارہ ثروت گیلانی نے بھی کنگنا رناوت کے پاکستان مخالف حالیہ بیان پر انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اُمید ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری کنگنا کو قبول کرلے اور انہیں اس زہر سے آزادی مل جائے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کنگنا کو انہیں ا
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ