پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکا سمیت دیگر دوست ممالک کے تعمیری کردار کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ امریکا نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے حالیہ معاہدے میں کردار ادا کیا، ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں، چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔

ترجمان نے کہاکہ پاکستان نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان امریکا سے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، ہم علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے عالمی برادری سے رابطے میں رہیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آج اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میں بہت فخر محسوس کرتا ہوں کہ بھارت اور پاکستان کی مضبوط اور غیر متزلزل قیادت نے یہ سمجھنے اور جاننے کی ہمت دکھائی کہ اب وقت ہے کہ جاری جارحیت کو روکا جائے، کیونکہ اس سے بہت زیادہ ہلاکت اور تباہی ہو سکتی تھی۔

امریکی صدر نے لکھا کہ اس کشیدگی میں لاکھوں معصوم لوگ مر سکتے تھے، دونوں ممالک کے باہمت رویے سے اچھی روایت بن گئی ہے، مجھے فخر ہے کہ امریکا آپ دونوں کی مدد کر سکا تاکہ آپ اس تاریخی فیصلے تک پہنچ سکیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ یہ بات زیرِ بحث نہیں آئی لیکن میں اس بات کا بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے ساتھ تجارت میں خاطرخواہ اضافہ کروں۔ اس کے علاوہ میں آپ دونوں کے ساتھ مل کر یہ کوشش بھی کروں گا کہ کیا کشمیر کے حوالے سے کوئی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں مسئلہ کشمیر کا حل اور دونوں عظیم ممالک کے درمیان تجارت چاہتا ہوں، ٹرمپ کا پاکستان اور بھارت کو پیغام

انہوں نے دونوں ممالک کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدا آپ کی قیادت کو سلامت رکھے، بھارت اور پاکستان کو ایک اچھے کام کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی صدر پاکستان بھارت جنگ پاکستان بھارت کشیدگی تجارت ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری مسئلہ کشمیر کا حل وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر پاکستان بھارت جنگ پاکستان بھارت کشیدگی ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری مسئلہ کشمیر کا حل وی نیوز پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کے درمیان بھارت کے ممالک کے نے کہاکہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم