پاکستان سپر لیگ پھر سے رنگ جمانے کو تیار، اہم اجلاس آج متوقع
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
لاہور:پاکستان سپر لیگ پھر سے رنگ جمانے کو تیار ہے، ایونٹ کو ری شیڈول کرنے کیلیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
پیر کو بھی اس سلسلے میں اہم اجلاس ہوں گا، ملتان سلطانز نے اپنا باقی بچنے والا ایک میچ مقامی کھلاڑیوں کے ساتھ ہی کھیلنے کا فیصلہ کرلیا، ٹیموں کو اپنے غیرملکی کھلاڑیوں کو واپس بلانے کی ہدایت پہلے ہی کی جا چکی ہے، کسی پر واپسی کیلیے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا، عدم دستیاب پلیئرز کی جگہ ملکی اسٹارز سے ہی پر کی جائے گی۔ لیگ کے فائنل سمیت 8 میچز کے پاکستان میں ہی انعقاد کو یقینی بنایا جارہا ہے، تمام مقابلے ایک ہی وینیو پر بھی ہوسکتے ہیں۔
پی ایس ایل کا 10 واں ایڈیشن بھارت کی جانب سے جارحیت کی وجہ سے اس وقت ملتوی کیا گیا جب اس کا 27 واں میچ راولپنڈی میں کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے ساتھ 8 مئی شیڈول تھا، اسی روز صبح کو اسٹیڈیم کی حدود میں بھارت کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون بھی گرکر تباہ ہوا تھا۔
معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کو معطل کردیا گیا، پہلے باقی 8 میچز دبئی میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا مگر پھر پی سی بی نے صورتحال اور حکومتی مشورے پر ٹورنامنٹ کو غیرمعینہ مدت کیلیے ملتوی کردیا تاہم بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے بعد صورتحال میں بہتری پر اب پی ایس ایل کو ری شیڈول کرنے کیلیے مشاورت کا آغاز کردیا گیا ہے۔
اس بارے میں پیر کے روز اجلاس متوقع ہے جس میں ٹورنامنٹ کی بحالی کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔ ادھر ملتان سلطانز نے غیرملکی کھلاڑیوں کے بجائے ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ہی اپنا باقی ایک میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملتان سلطانز کا صرف کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے خلاف میچ باقی ہے جس کے لیے انہوں نے غیرملکی کھلاڑیوں کو دوبارہ پاکستان مدعو نہ کرنے کے حوالے سے پی سی بی منتظمین کو آگاہ کردیا ہے۔ ملتان سلطانز کا موقف ہے کہ غیرملکی کھلاڑیوں کی موجودگی یا عدم موجودگی سے ان کو اب کوئی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ وہ پہلے ہی پلے آف مرحلے سے باہر ہوچکے ہیں تاہم وہ آخری میچ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب پی سی بی حکام پی ایس ایل کو جلد سے جلد ری شیڈول کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ اس لیگ کو مکمل کیا جاسکے، لیگ میں فائنل سمیت 8 میچز کو پاکستان میں ہی یقینی بنایا جارہاہے۔ پی ایس ایل منتظمین ٹیم مالکان سے غیرملکی کھلاڑیوں کی دستیابی کے بارے میں بھی پوچھ رہے ہیں، پہلے ہی فرنچائز کو ہدایت کی جاچکی ہے کہ وہ پاکستان سے جانے والے کھلاڑیوں سے ان کی باقی میچز کیلیے دستیابی کی تصدیق کریں تاہم اگر اس سلسلے میں کسی پر دباؤ نہیں ڈالا جائے گا، جو نہیں آئیں گے ان کی جگہ مقامی کھلاڑیوں کو دی جائے گی اور ٹورنامنٹ کو مکمل کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پوائنٹس ٹیبل کے ٹاپ پر موجود کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 13 پوائنٹس کے ساتھ پہلے ہی پلے آف میچ جگہ محفوظ کرچکی اور اب باقی 4 ٹیموں کے درمیان باقی 3 پوزیشنز کیلیے جنگ ہونا باقی ہے، کراچی کنگز 8 میں سے 5 میچز جیت کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں، ٹورنامنٹ کے آغاز پر لگاتار 5 میچز جیتنے والی اسلام آباد یونائیٹڈ اگلے 4 میچز ہار کر 10 ہی پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر جا چکی ہے، اس کا اب صرف ایک میچ باقی ہے۔
لاہور قلندرز کی پوزیشن نازک ہے کیونکہ اس نے اپنے 9 میچز کھیل لیے اور ان میں 9 ہی پوائنٹس حاصل کیے اور اس کا پشاور زلمی کے ساتھ ایک میچ باقی ہے۔ پشاور کی ٹیم نے 8 میچز کھیلے اور 8 ہی پوائنٹس حاصل کیے، اس کے 2 میچز باقی ہے، جن میں سے ایک کراچی کنگز کے ساتھ ہے، بابراعظم کی ٹیم کو پلے آف میچ جگہ کیلیے دونوں میچز جیتنا ہوں گے، اگر اس کو کراچی پر فتح حاصل ہوجاتی ہے تو پھر لاہور قلندرز کو اگلے میچ میں اسے زیر کرکے اپنی امید برقرار رکھنا ہوگی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غیرملکی کھلاڑیوں ملتان سلطانز پی ایس ایل کے ساتھ باقی ہے پہلے ہی ایک میچ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔