ہالی ووڈ میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے کیلئے مشہور پائریٹس آف دی کیریبین اسٹار جانی ڈیپ مالی بحران کا شکار ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک دور تھا جب جانی ڈیپ ہالی ووڈ کے کامیاب ترین اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ "پائریٹس آف دی کیریبین" اور "فینٹاسٹک بیسٹس" جیسی کامیاب فلموں نے انہیں بین الاقوامی شہرت دی۔

2012 میں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے انہیں دنیا کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا اداکار قرار دیا، اور 2014 میں ان کی دولت کا تخمینہ 90 کروڑ ڈالر (900 ملین) لگایا گیا۔

تاہم وقت کے ساتھ جانی ڈیپ کی زندگی میں مالی بدانتظامی اور قانونی مسائل نے گہرا اثر ڈالا۔ ان کے سابق مینیجرز TMG نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیپ ہر ماہ دو ملین ڈالر سے زائد خرچ کرتے تھے، جن میں صرف شراب پر 30 ہزار ڈالر شامل ہیں۔

دیگر فضول اخراجات میں نجی جزیرے، مہنگے زیورات اور اسٹاف شامل ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈیپ نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے وقت کے ساتھ 65 کروڑ ڈالر (650 ملین) کھو دیے اور ایک موقع پر ان پر 10 کروڑ ڈالر (100 ملین) کا قرض بھی چڑھ گیا تھا۔

آج 61 سالہ جانی ڈیپ دوبارہ ہالی ووڈ میں واپسی اور مالی استحکام لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی آنے والی فلم "ڈے ڈرنکر" 2026 میں ریلیز ہوگی جو ان کی امبر ہرڈ سے طلاق کے بعد ہالی ووڈ میں ایک زبردست واپسی بھی ہوسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہالی ووڈ جانی ڈیپ

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا