گوگل جیمنائی کے ذریعے تصاویر ایڈٹ کرنا ممکن
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) سسٹم جیمنائی میں تصاویر ایڈٹ کرنے کا فیچر پیش کردیا۔
گوگل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اب کانٹینٹ کریئیٹرز اور صارفین گوگل جیمنائی سے تصاویر بھی ایڈٹ کر سکیں گے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جیمنائی کو فوٹو ایڈیٹنگ کی تربیت دے دی گئی اور صارفین اب جیمنائی کو ہدایات دے کر تصاویر ایڈٹ کروا سکیں گے۔
صارفین جیمنائی میں تصاویر بھیج کر اسے ہدایات دے کر اپنی مرضی کے مطابق تصاویر کو ایڈٹ کروا سکیں گے۔
فیچرز کے مطابق صارفین تصاویر کے بیک گراؤنڈ کو تبدیل کروانے کے علاوہ اس میں نمایاں تبدیلیاں بھی کروا سکیں گے۔
گوگل جیمنائی کی جانب سے تصاویر کو اس طرح ایڈٹ کیا جائے گا، جس طرح کوئی بھی پروفیشنل فوٹو ایڈیٹر تصاویر کو ایڈٹ کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اب گوگل جیمنائی کا اے آئی ایڈیٹر متعدد کام کرسکتا ہے، اس کے ذریعے اسٹوری بورڈ کے خاکے تیار کیے جاسکتے ہیں جب کہ ڈیزائنرز اپنی پراڈکٹ فوٹوز کا پورٹ فولیو بھی اس سے تیار کر سکیں گے۔
اسی طرح آرکیٹیکٹ اپنی مرضی کے مطابق جیمنائی کو ہدایات دے کر عمارات کے ڈیزائنز کو بھی تیار کر سکیں گے۔
جیمنائی کی جانب سے تیار کی گئی یا ایڈٹ کردہ تصاویر میں اے آئی کا واٹر مارک بھی شامل ہوگا تاکہ دیکھنے والے سمجھ جائیں کہ تصاویر کو اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گوگل جیمنائی تصاویر کو کے مطابق سکیں گے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔