ملک میں سیاسی تناؤ عروج پر، عمران خان کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے،بیٹے بھی میدان میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں نے ایک ویڈیو انٹرویو میں حالات کی سنگینی اور ان کے والد کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو ایسی سزاؤں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو موت کی سزا تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے صورتحال انتہائی مایوس کن ہو گئی ہے
انٹرویو میں، عمران خان کے بیٹوں نے بتایا کہ یہ انٹرویو دینے کی وجہ حالات کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم بہت پریشان ہیں کیونکہ انہیں سزا دینے کی دھمکیاں دی گئی ہیں جو موت کی سزا تک پہنچ سکتی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے یہ انٹرویو اپنے والد سے پوچھ کر دیا ہے، جنہیں معلوم ہے کہ یہ انٹرویو دیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ عام طور پر سیاست سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا یہ انٹرویو دینا ٹھیک ہوگا، اور انہوں نے اس کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا، “ہم صرف امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اس کے پیچھے نہ ہوں۔” انہوں نے زور دیا کہ حالات انتہائی مایوس کن ہوتے جا رہے ہیں، اور انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال پر توجہ دیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، اور سوشل میڈیا پر عمران خان کی موت کے متعلق افواہیں پھیلی ہوئی ہیں، جو ابھی تک تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں سیاسی اور سماجی صورتحال کتنی غیر مستحکم ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کا یہ بیان عوام میں تشویش کی لہر پیدا کر رہا ہے، اور بہت سے لوگ ان کی حفاظت کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں، سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کا انتہائی اہم بیان ????
انٹرویؤ دینے کی وجہ یہ ہے کہ حالات انتہائی مایوس کن ہوتے جا رہے ہیں میرے والد کو پھانسی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں یہ انٹرویؤ اُن سے پوچھ کر دے رہے ہیں میرے والد کو معلوم ہے اِس انٹرویو کا pic.
— Shams Khattak (@Sh_am_92) May 13, 2025
مزیدپڑھیں:دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عمران خان کے بیٹوں یہ انٹرویو انہوں نے والد کو رہے ہیں
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔