امریکی صدر کا دورہ سعودی عرب، بن سلمان کا ریاض میں ٹرمپ کا استقبال
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
بدھ کو امریکی صدر قطر کے دارالحکومت دوحہ جائیں گے اور متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں ایک روزہ قیام کے ساتھ خطے کے اپنے دورے کا اختتام کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ دوسرے دور صدارت کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے اور ولی عہد محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج منگل کی صبح سے تین ممالک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے اپنے علاقائی دورے کا آغاز کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دورے کا آغاز میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے۔ اس کے بعد امریکی صدر بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ جائیں گے اور متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں ایک روزہ قیام کے ساتھ خطے کے اپنے دورے کا اختتام کریں گے۔ گزشتہ روز سعودی کابینہ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت اپنے ہفتہ وار اجلاس میں امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دونوں دوست ممالک کے درمیان تعاون اور سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مضبوط بنانے اور اسے تمام شعبوں میں اس طرح ترقی دینے کا باعث بنے گا، جس سے مشترکہ مفادات حاصل ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے دارالحکومت امریکی صدر دورے کا
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔