امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 142 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
امریکا اور سعودی عرب نے 142 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط کرلیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ 142 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں سمیت دیگر معادوں پر بھی دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں امریکا اور سعودی عرب میں سول نیوکلیئر انرجی پر تاریخی معاہدے کی تیاری
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دفاع، توانائی اور معدنایت کے شعبوں میں معاہدے ہوئے ہیں۔
معاہدے کے مطابق سعودی عرب کی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو جدید بنانے کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سعودی خلائی ایجنسی اور ناسا کے درمیان بھی ایک معاہدہ شامل ہے۔
امریک اور سعودی عرب کے درمیان معدنی وسائل کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دسخط کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ انصاف کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا ہے، جبکہ متعدی بیماریوں سے متعلق تعاون کا معاہدہ بھی ہوا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
مذاکرات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ اور خطے میں دنیا سے متعلق باہمی دلچسپی کے امور پر گفت و شنید کی گئی۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج منگل کو سعودی عرب پہنچے جہاں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان نے خود ان کا استقبال کیا۔
صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان شاہی محل میں ظہرانے میں بھی اکٹھے شریک ہوئے۔
دریں اثنا انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ امریکا کی فوجیں طاقتور ہیں لیکن مجھے جنگیں پسند نہیں، کچھ دن پہلے پاکستان اور بھارت میں تاریخی سیز فائر کروایا، امریکہ انتظامیہ نے دونوں ملکوں کے درمیان کامیابی سے جنگ بندی کروائی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ پاک بھارت دوستوں کو کہاکہ جھگڑا چھوڑیں اور کچھ تجارت کریں، دونوں ملکوں کو کہا کہ نیوکلیئر میزائلوں کو چھوڑیں اور تجارت کا سوچیں، دونوں ملکوں کو کہا کہ وہ میزائل ٹریڈ نہ کریں، وہ ٹریڈ کریں جو آپ کو خوبصورت بنائے۔
امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی قیادتیں مضبوط اور ذہین ہیں، پاک، بھارت نے سیز فائر کیا ہے اور امید ہے وہ اسے برقرار رکھیں گے، مارکو روبیو، جے ڈی وینس کی کوششتوں سے دونوں ملک رکے، پاک بھارت جنگ بندی پر مارکو روبیو اور جے ڈی وینس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ میں لاکھوں لوگ قتل ہوسکتے تھے، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی تھی، خوشی ہوئی کہ دونوں نے کشیدگی روک دی، دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کروانے پر امریکی انتظامیہ پر فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں سعودی عرب میں امریکا اور روس کے درمیان اہم مذاکرات شروع
ان کا کہنا تھا کہ جنوری سے اب تک امریکا نے 83 دہشتگرد لیڈروں کو ختم کیا ہے، عراق، شام، صومالیہ سے کام کرنے والے دہشتگردوں کو ختم کیا جبکہ پاکستان کی مدد سے داعش سے وابستہ عالمی دہشتگرد کو گرفتار کیا، پاکستان کی مدد سے 13 امریکی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے دہشتگرد کو گرفتار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اقتصادی شراکت داری امریکا امریکی صدر دفاعی معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقتصادی شراکت داری امریکا امریکی صدر دفاعی معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ سعودی ولی عہد وی نیوز ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دونوں ملکوں کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور سعودی عرب سعودی عرب کے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔