اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمیشن کاعہدیدار ناپسندیدہ قرار، پاکستان چھوڑنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے بھارت کی جانب سے جنگ کے میدان میں شکست کے بعد سفارتی سطح پر اپنائے جانے والے ہتھکنڈوں کا بھی منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔
دفترخارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو اُس کی سرگرمیوں کی بنیاد پر "ناپسندیدہ شخصیت" قرار دے دیا ہے کیونکہ بھارتی اہلکار کی حرکات سفارتی استحقاق اور حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔
بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر پاکستان چھوڑ دے اور اس فیصلے سے بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاجی مراسلے کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔
اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفارت کار شنکر ریڈی چنتالا جاسوسی میں ملوث پایا گیا تھا، اسی لیے پاکستان نے انہیں "ناپسندیدہ شخصیت" قرار دے دیا۔
بھارتی ہائی کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ شنکر ریڈی چنتالا اور ان کے اہلِ خانہ 24 گھنٹوں کے اندر پاکستان سے چلے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی ہائی کمیشن کے ناپسندیدہ شخصیت اسلام آباد میں میں تعینات اہلکار کو
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔