کراچی، شہر بھر میں مختلف واقعات میں 2 افراد جاں بحق، ایک زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں رات پیش آنے والے مختلف پرتشدد واقعات میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔
پہلا واقعہ کورنگی کوسٹ گارڈ چورنگی کے قریب نورانی بستی میں ہوا جہاں جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے کے وار سے ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت بلال کے نام سے ہوئی ہے، جس کی لاش کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسرے واقعے میں ایک اور شخص عمر زمان زخمی ہوا، جسے فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی نوعیت گھریلو جھگڑے یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر معلوم ہو رہی ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی، لانڈھی میں فائرنگ کا تبادلہ، خاتون زخمی، ایک ڈاکو ہلاک
جبکہ تیسرے واقعے میں فیڈرل بی ایریا بلاک 14 فلاح مسجد کے قریب سے ایک تشدد زدہ بوری بند لاش برآمد ہوئی ہے۔
چھیپا ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت 60 سالہ خاور انجم ولد محمد افضال کے نام سے کی گئی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم اور مزید کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں