WE News:
2026-07-24@04:43:05 GMT

سرینڈر مودی ہمیں اب تاؤ بولا کر

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

ایک چرسی چھت پر بیٹھا پکے سوٹے لگا رہا تھا۔ اس کا دماغ سوچ کو بادلوں میں لے گیا۔ تب چرسی کو خیال آیا کہ وہ اڑ سکتا ہے۔ چرسی خیال آتے ہی اٹھ کر کھڑا ہوا، اپنے ہاتھ پھیلائے اور دوڑ کر اڑ گیا۔ اڑتے ہی وہ سیدھا زمین پر آ کر گرا۔ دھڑام کافی بڑی ہوئی تھی۔ لوگ بھاگے آئے، اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا؟ چرسی بولا کیا پتہ میں تو خود ابھی پہنچا ہوں۔

آپ اس چرسی والے واقعے سے عقل کشید کریں۔ انڈین ڈی جی ائیر آپریشن اودیش کمار بھارتی میڈیا کو دیے گئے جواب پر درگزر کریں۔ رافیل طیارہ گرنے پر سوال کے جواب میں اے کے بھارتی نے فرمایا ’نقصانات لڑائی کا حصہ ہوتے ہیں، تفصیل نہیں بتا سکتا، اس سے فریق مخالف کو فائدہ ہوگا‘۔ یہ کہہ کر بھارتی نے ہمارے چرسی والا سیانا پن ہی ظاہر کیا ہے۔ ان سے درگزر کریں۔

اک پنڈ میں بالکل مودی طبعیت ایک عملی (افیمی) تھا ۔ آتے جاتے پر اڑ اڑ کر گرتا۔ جسے دیکھتا اسے سنانی شروع کر دیتا۔ عملی کی زبان سے تنگ آ کر گاؤں والے جمع ہوئے۔ اس کی بہادری، عقل فراست اور منطقی دلائل دینے کی صلاحیت کا اعتراف کیا۔ اسے کہا کہ اگر وہ جا کر ساتھ والے پنڈ کے سرپنچ کو کہہ آئے کہ آئندہ ہم اپنے پنڈ سے پانی تمھاری طرف نہیں آنے دیں گے تو سارے پنڈ کا بھلا ہو جائے گا اور تمھاری دھاک بھی بیٹھ جائے گی۔

عملی نے مودی والی ساری فیل لی اور سرپنچ کو تڑی دینے چلا گیا۔ گھنٹے ڈیڑھ بعد عملی کی تقریباً لاش اس کے پنڈ کے باہر پھینک گئے۔ پنڈ والے بھاگ کر گئے، پانی وانی ڈالا، عملی کو جگایا، پوچھا کیا ہوا تھا؟ عملی بولا ہونا کیا تھا، میں نے جاتے ہی تڑیاں دی اور پانی روکنے کا کہا۔ بس! پھر سرپنچ نے خود مجھے اٹھا کر نیچے لٹایا اور اوپر چڑھ گیا۔ پھر میں نے نیچے لیٹے سرپنچ کی وہ ٹھکائی کی کہ ساری عمر یاد کرے گا، ہائے۔ اب جب مودی جی کہہ رہے ہیں کہ وہ جیتے ہیں تو ہمیں اسی عملی والی کہانی کی روشنی میں مان لینا چاہیے۔ کیوں نہیں مانتے آپ؟

مودی جی کو بی جے پی نے بھگوان بنا رکھا ہے تو ایسے اک بھگوان کی بھی سن لیں جو اک چھوٹی سی پہاڑی ریاست کا بھگوان تھا۔ ہر طرف امن سکون تھا۔ اک دن ایک شکاری طبعیت رانا صاحب رستہ بھول کر اس ریاست میں جا نکلے۔ امن سکون دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے اپنی بندوق کو ڈانگ بنایا اور ساری ریاست کا نظام اوپر نیچے کر کے رکھ دیا۔ سب کو اپنی اطاعت کا حکم دیا۔

عوام اکٹھی ہوئی اپنے زندہ بھگوان کے پاس پہنچ گئی۔ اس سے درخواست کی کہ رانا صاحب سے جان چھڑا دے ورنہ یہ ہم میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ بھگوان پھر بھگوان تھا، رانا صاحب سے ملنے چلا گیا۔ رانا صاحب نے بھگوان کی بڑی آؤ بھگت کی۔ ریاست کی اور لوگوں کی جان چھوڑنے کی درخواست بھی مان لی۔ بھگوان کو حیرت ہوئی کہ یہ تو آسان سا کام تھا۔ اس نے رانا صاحب سے پوچھا کہ آپ کی کوئی شرط نہیں؟ رانا صاحب بولے کیوں نہیں ہے، ایک شرط بس، آئندہ سے تو مجھے تاؤ (تایا ) کہا کر اپنا۔

آج آپ کو تین، تین لطیفے سنانے کی ایک وجہ ہے۔ انڈین میڈیا سوشل میڈیا ان کے نام نہاد صحافی جس طرح رپورٹنگ کرتے اور اپنی گیدڑ کٹ کے بعد چھاتی پیٹ کر فتح بتا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں لطیفے ہی سنائے جا سکتے ہیں پھر۔ جنگ کی حمایت کوئی پاگل ہی کر سکتا ہے۔ پر جب یہ آپ پر مسلط کر دی جائے تو پھر اپنے لیے نہیں آنے والی نسلوں کے لیے لڑنا تو پڑتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں یہ لکھا تھا کہ ’سٹرائک نہ ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ کوئی فیصلہ کن پیشرفت ہو اور دکھائی دیتی فیور ملے، یہ نہیں مل رہی۔ فیصلے ہو چکے، دوستوں اتحادیوں سے معذرت کی جا چکی، تڑیاں دینے والوں کو ان کی زبان میں سمجھایا جا چکا۔ اب ہونی ہو کے رہنی ہے۔ ہونی ہوئی تو دنیا ہمارا نام عزت سے لیا کرے گی ‘۔ ایسا ہی ہوا اس پر ہم دیسیوں کو عاجزی سے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ البتہ سرینڈر مودی کو چاہیے کہ ہمیں اب تاؤ کہا کرے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

مودی وسی بابا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف