برطانیہ کی حکومت نے امیگریشن قوانین کو سخت کرنے کے لیے ایک وسیع اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد بیرون ملک سے آنے والوں کی تعداد میں کمی لانا ہے۔

امیگریشن قوانین میں یہ تبدیلیاں صرف ہنر مند افراد کو ترجیح دینے اور برطانوی ورکرز کے لیے مواقع بچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ برطانیہ میں مختلف حلقوں کی وجہ سے بیرون ملک سے روزگار کی تلاش یا شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی تعداد میں بے تحاشا اضافے پر حکومت پر ان اصلاحات کا دباؤ بڑھ گیا تھا جس کے بعد امیگریشن قوانین میں تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

نئے برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اعتراف کیا ہے کہ بہت عرصے تک کاروباری اداروں کو کم تنخواہ والے غیر ملکی ورکرز پر انحصار کرنے کی ترغیب دی گئی، بجائے اس کے کہ وہ ملکی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کریں اور برطانوی شہریوں کو روزگار دیں۔ نئی حکمت عملی اس رجحان کو پلٹنے کی کوشش ہے، تاکہ صرف ہنر مند امیگریشن کو فروغ دیا جائے اور مقامی افرادی قوت کو آگے لایا جائے۔

ڈگری کی شرط

برطانیہ میں امیگریشن میں کمی اور اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے غیر ملکی افرادی قوت کے لیے ہنر کی ضروریات کو ڈگری سطح کی تعلیم تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم ہنر مند درخواست گزاروں کو خارج کرنا ہے۔

امیگریشن ہنر چارج میں اضافہ

امیگریشن ہنر چارج، جو کہ برطانوی کمپنیوں کو غیر ملکی ورکرز کو ملازمت دینے پر ادا کرنا ہوتا ہے، کو پہلی بار 2017 کے بعد بڑھایا جا رہا ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس سے کاروباری کمپنیوں کو مقامی ملازمین کو مواقع دینے اور ہنر سکھانے کی ترغیب ملے گی، تاکہ وہ غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کم کریں۔

نئے آبادکاری اور شہریت کے قواعد

مستقل شہریت حاصل کرنے کے لیے درکار رہائش کی مدت کو 5 سے 10 سال تک بڑھایا جا رہا ہے، مگر اُن افراد کے لیے استثنا بھی ہے جو برطانیہ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انگریزی زبان کی شرائط میں سختی

نئی قوانین کے تحت بیرون ملک سے تعلیم اور روزگار کے لیے آنے والوں کے لیے اعلیٰ درجے کی انگریزی صلاحیتیں لازمی ہوں گی۔ پہلی بار ویزہ ہولڈرز کے ساتھ آنے والے بالغ افراد کو بھی بنیادی انگریزی مہارت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیگریشن قوانین برطانیہ روزگار شہریت کیلر اسٹارمر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امیگریشن قوانین برطانیہ روزگار شہریت کیلر اسٹارمر امیگریشن قوانین غیر ملکی کے لیے

پڑھیں:

پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر