پاکستان ترکیہ بحری اسپیشل فورسز کی پہلی دوطرفہ مشق کامیابی سے مکمل
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
پاکستان اور ترکیہ کی بحری افواج کی اسپیشل فورسز کے مابین پہلی دو طرفہ مشق کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئی۔ یہ مشق دونوں برادر ممالک کے مابین بحری تعاون اور آپریشنل ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق مشق کے دوران کئی تربیتی سرگرمیاں انجام دی گئیں، جن میں مختلف اقسام کے ہتھیاروں کی فائرنگ، خشکی اور سمندر میں مشترکہ آپریشنز اور شہری علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے عملی مظاہرے شامل تھے۔
ان مشقوں میں لائیو فائرنگ کے ساتھ جنگی حالات پر مبنی آپریشنز بھی شامل تھے، جن کا مقصد ساحلی علاقوں میں مشترکہ کاررروائیوں کی تیاری اور حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ مشق کا اختتام ایک مخصوص ساحلی علاقے میں جامع ڈرل پر ہوا، جس میں دونوں فورسز نے خشکی اور سمندر میں درپیش خطرات سے نمٹنے کی مشق کی۔
اس مشق نے دونوں ممالک کی بحری افواج کی آپریشنل تیاری اور حربی مہارتوں کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔
ترجمان کے مطابق اس مشق کا انعقاد پاکستان اور ترکیہ کے دیرینہ اور مضبوط دفاعی تعلقات کا عملی ثبوت ہے، جو اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ دونوں ممالک علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات میں پُرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسپیشل فورسز بحری مشق پاکستان ترکیہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیشل فورسز پاکستان ترکیہ وی نیوز مشق کا
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔